ایمان ایک غذا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۳
فرائڈ کے اس طریق تعبیر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک عالم نفسیات نے لکھا ہے : With this kind of logic, all dreams can- not but be consistent with Freud's theory. اس قسم کی منطق سے تولازماً تمام خواب فرائڈ کے نظریہ کے مطابق ہی ثابت ہوں گے (۲۵ جون ۱۹۷۸) منطق کی یہ قسم فرائڈ تک محدود نہیں۔ یہ بہت زیادہ عام ہے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی اس کو اپنے لئے ایک قیمتی علمی ہتھیار سمجھتے ہیں جو فرائڈ کے " ’’مخالف‘‘ " ہیں۔ خود راقم الحروف کو متعدد بار اس منطق سے سابقہ پڑا ۔ میں نے کسی کے نقطہ نظر پر علمی تنقید کی۔ موصوف کو پورا حق تھا کہ وہ میری بات کو دلیل کے ذریعہ رد کرتے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ انھوں نے کہا: تم کوچوں کہ مصنف سے " ضد " ہے ، اس لئے تم اس کے خلاف تنقید کر رہے ہو۔ ایک بزرگ نے ایک بار لکھا : " آپ کے اندر میرے خلاف ایک ضداور کد کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے ، اس لئے آپ کو میری بات غلط نظر آتی ہے “ اگر آدمی کے پاس اپنے نقطہ نظر کو ثابت کرنے کے لیے دلیل موجود نہ ہو تو یہ اس کے لئے بہترین قلعہ ہے جہاں وہ پناہ لے سکتا ہے۔ اگر چہ اپنے تمام تر حسن اور تقدس کے باوجود یہ ایک ایسا قلعہ ہے جو آدمی کے اپنے ذہن میں ہوتا ہے یا زیادہ سے زیادہ اس کے معتقدین کے ذہن میں۔ ان کے باہر اس مضبوط قلعہ کا کہیں وجود نہیں ہوتا۔ اهميت ہو، اللہ کے نزدیک ایسے اسلام کی کوئی قیمت نہیں ۔
ایمان ایک غذا ہے
قلب کی قساوت یہ ہے کہ آدمی کے دل سے نرمی نکل گئی ہو۔ وہ سچائی کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہ ہوتا ہو۔ غذا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی منہ میں کوئی چیز ڈال کر اس کو چبارہا ہو۔ غذا وہ ہے جو آدمی کا گوشت اور کوئی معاملہ پڑے تو وہ ایسا رویہ اختیار کرے گویا اس خون بنے اور اس کی صحت و طاقت کا ذریعہ ہو۔ یہی کے سینے میں دل نہیں پتھر ہے (بقرہ ۷۴) آدمی کے دل سے لطیف احساسات اس طرح مٹ جائیں کہ شیطان مسلمان کے مسلمان ہونے کی پہچان محض ظاہری جب اس کے دل میں اپنی بات ڈالے تو وہ اس کو پہچان اعمال نہیں ہیں۔ نہ یہ ہے کہ وہ اسلامی تقریروں اور نہ سکے اور شیطانی ترغیبات کا شکار ہو جائے (حج ۵۳) تحریروں کا کمال دکھار ہا ہو۔ اللہ کا مطلوب مسلمان آدمی خدا کی نشانیاں دیکھے، اس کے سامنے حق کے وہ ہے جس کے اعمال اس کے سینہ میں قلب خاشع پیدا دلائل آئیں مگر یہ چیزیں اس کے دل کو متاثر نہ کریں۔ کر رہے ہوں۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ بظاہر اسلامی خدا کی یاد سے خالی رہ کر وہ زندگی گزارتا رہے (زمر ۲۲) اعمال کی دھوم ہو، مگر آدمی کے سینہ میں قلب قاسی جهنم وہ حقائق کو نظر انداز کرے اور خوش فہمیوں پر اپنی زندگی لے رہا ہو تو دنیا والوں کی نظر میں خواہ اس کی کتنی ہی کی بنیاد رکھے (حديد ١٦)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues