دستِ او معمار تقدیر امم
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۸
۔۔۔ مگر ان کے دل مردار سے زیادہ متعفن ہوں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والذی نفسی بیدہ لا تقوم الساعة حتیٰ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، قیامت یبعث الله امراء کذبة ووزراء فجرةً قائم نہ ہوگی جب تک وہ دور نہ آجائے جس میں جھوٹے حکمران، و اعواناً خونةً وعرفاء ظلمةً وتداعِ برے وزرار، بددیانت ملازمین حکومت، ظالم قائدین ظہور فسقةً سیماهم سیما الرهبان وقلوبهم میں نہ آجائیں۔ اس زمانہ میں ایسے فاسق علماء ہوں گے جن انتن من الجيفة، اهوائهم مختلفةً کا ظاہر پارساؤں جیسا ہوگا اور ان کے دل مردار سے زیادہ فيتيح الله لهم فتنةً غبراء مظلمةً متعفن ہوں گے۔ ان کی خواہشات ایک دوسرے سے الگ فیتها دکون فيها ہوں گی۔ اس زمانہ میں اللہ ایک ایسا اندھا فتنہ پرپا کرے گا جس میں لوگ حیران و سرگرداں ہو کر رہ جائیں گے۔
یہ تاریخ کا نازک ترین دور ہو گا۔ اس دور کی پہچان یہ ہے کہ شخصی اور گروہی مصلحتوں کو سب سے زیادہ اہم سمجھا جانے لگے اور حق، اپنی تمام تابانیوں کے باوجود، انسانی آوازوں میں گڈ مڈ ہو جائے ۔ اس وقت کسی بندہ خدا کو جو چیز بچائے گی وہ صرف خدا کی مدد ہے اور خدا کی مدد ملتی ہے تضرع اور انابت سے۔ 🔲 ایک مسلمانوں کی تباہی کے سبب صرف دو ہیں اقتباس ایک، قرآن کو چھوڑ دینا۔ دوسرے، باہمی جنگ و جدال شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب مالٹا کی چار سالہ جیل سے رہائی کے بعد دارالعلوم دیوبند میں تشریف لائے تو علماء کے ایک مجمع کے سامنے آپ نے بہت اہم بات ارشاد فرمائی ۔ فرمایا: ”میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہو رہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے۔ ایک ان کا قرآن کو چھوڑ دینا۔ دوسرے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی۔ اس لئے میں یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کر دوں کہ قرآن کریم کو لفظاً اور معناً عام کیا جائے۔ بچوں کے لئے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی میں قائم کئے جائیں۔ بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایا جائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لئے آمادہ کیا جائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے۔ “ وحدت امت، ازمولانا مفتی محمد شفیع۔ شائع کردہ مکتبہ المنیر، فیصل آباد۔ پاکستان
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues