Al-Risala · October 1978 · page 39

رودادسفر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۳۹

رودادسفر

جمیعت اہل حدیث کی دعوت پر کشمیر کاسفر ہوا اور ان کے سالانہ اجلاس بمقام سری نگر (۲۹۔ ۳۰ جولائی ۱۹۷۸ء) میں شرکت ہوئی ۔ ایک ہفتہ قیام کے بعد ۷ اگست ۱۹۷۸ء کو دہلی واپس آیا۔

جمعیۃ کا اخبار عرصہ سے نکل رہا ہے جس کا نام ”مسلم“ ہے۔ ہے۔ 1972 سے یہ ہفت روزہ کی صورت میں جاری ہے، جمعیۃ کا ۱۸-۱۹۷۷ کا بجٹ تین لاکھ روپے کا تھا۔

کانفرنس میں راقم الحروف نے ایک مقالہ تلخیصاً پڑھا۔ یہ مقالہ اپنی پوری شکل میں زیرِ نظر اشاعت میں شامل ہے ۔ جمعیۃ اہل حدیث کی کارروائیوں اور تقریروں میں زیادہ تر زور اثبات توحید اور رد شرک پر تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس خاص دینی خدمت کے معاملہ میں جمعیۃ اہل حدیث کو، دوسرے اسلامی حلقوں کے مقابلہ میں امتیازی مقام حاصل ہے۔ جمعیۃ کے دفتر (بریہ شاہ) پر بھی چند گھنٹے گزرے۔ کافی وسیع عمارت ہے جس میں جمعیۃ کے دفاتر کے علاوہ مسافر خانہ اور دارالعلوم قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ جمعیۃ کے تحت مکتبہ مسلم عرصہ سے قائم ہے۔ اب اس کو از سر نو منظم کیا جا رہا ہے۔ مکتبہ مسلم (بریہ شاہ، سری نگر) نے ماہنامہ الرسالہ کی ایجنسی لے لی ہے۔ ادارہ الرسالہ کی دوسری تمام کتابیں بھی ان کے یہاں ہر وقت ملتی ہیں۔

انجمن اہل حدیث کا قیام سری نگر میں ۱۹۲۴ میں عمل میں آیا۔ اسی تنظیم نے 1942 میں جمعیۃ اہل حدیث جموں وکشمیر کی صورت اختیار کی۔ دستور کے مطابق اس کا مقصد توحید وسنت کی اشاعت ہے۔ مساجد کو مرکز بنا کر لوگوں کو فرائض وسنن سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ سال کے دوران مقامی اجتماعات کے علاوہ ہر سال ریاست کے کسی مقام پر سالانہ کانفرنس کی جاتی ہے۔ جمعیۃ کے اہتمام میں مختلف مقامات پر مدارس قائم ہیں ۔ مرکزی درس گاہ کے طور پر الکلیۃ السلفیہ کا آغاز ۱۹۷۷ میں کیا گیا ہے ۔ سری نگر میں ایک لائبریری بھی قائم ہے۔ سری نگر میں داخل ہونے والے کسی باہر کے آدمی کو جو چیز چونکاتی ہے اس میں سے ایک وہ لال بورڈ ہے جو جگہ جگہ سڑکوں پر لگا ہوا ہے۔ اس پر سفید حرفوں میں لکھا ہوا ہے :

ہمارا مسلک: خود اعتمادی اور خدا اعتمادی یہ دونوں باتیں جس قوم میں پیدا ہو جائیں اس کو ترقی اور کامیابی سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اگرچہ یہ کہنا بڑی حد تک صحیح ہوگا کہ یہ الفاظ بھی کشمیری قوم کے لئے "مسلک" سے زیادہ "منصوبہ" کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

سری نگر میں کلیم اللہ خاں صاحب ایم۔ ایس۔ سی ایک سنجیدہ نوجوان ہیں۔ باقاعدہ سائنسی تعلیم کے علاوہ پرائیویٹ طور پر عربی زبان بھی سیکھی ہے۔ وہ شہر کے مختلف مقامات پر مطالعہ قرآن کے حلقے چلا رہے ہیں ۔ اس میں شرکت کرنے والے زیادہ تر تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، یہ لوگ روزانہ صبح یا شام کو جمع ہو کر قرآن کی تصحیح کرتے ہیں اور ترجمہ کے ذریعہ قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس قسم کے دو حلقوں کے اجتماع میں مجھے شرکت کا اتفاق ہوا۔ نوجوان لوگ جس دل چسپی اور سنجیدگی سے قرآن پر جھکے ہوئے تھے اس کو دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ حقیقت یہ ہے کہ امت کا سارا بگاڑ قرآن کو چھوڑنے کی وجہ سے ہے۔ یہ امت اگر دوبارہ قرآن کی رسی کو پکڑ لے تو اچانک امت کے اندر ایک نیا انقلاب آ جائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues

Printed page