Al-Risala · October 1978 · page 40

رودادسفر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۴۰

مجھ سے پوچھا گیا کہ مطالعہ قرآن کے رہنما اصول کیا ہیں ۔ میں نے کہا یوں تو اس موضوع پر موٹی موٹی کتا بیں لکھی گئی ہیں اور درجنوں علوم کی مہارت کو فہم قرآن کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ مگر قرآن کا اصل مقصد نصیحت ہے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے کے لئے صرف ایک چیز کافی ہے ، اور وہ ہے دعا ۔ آپ قرآن کو اہتمام اور سنجیدگی کے ساتھ پڑھیں اور جہاں کوئی بات سمجھ میں نہ آئے ، اللہ سے اس کے لئے دعا کریں۔ قرآن کا مصنف خود اللہ تعالیٰ ہے اور قرآن بتاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے قریب ہے اور ہر وقت ان کی پکار کو سنتا ہے۔ پھر اس سے بڑی چیز اور کیا ہے جس پر قرآن فہمی کے سلسلے میں بھروسہ کیا جائے ۔ قرآن کو سمجھنے کے لئے اللہ سے مدد طلب کرنا گویا خود کتاب کے مصنف سے کتاب کی تشریح پوچھنا ہے۔ اس سے بڑا خوش قسمت اور کون ہے جو کسی کتاب کا مطالعہ اس حال میں کر رہا ہو کہ کتاب کا مصنف ہر وقت اس کے پاس مراجعت کے لئے موجود ہو۔

یکم اگست کو چند گھنٹے اسلامک اسٹڈی سرکل کے مرکزی دفتر میں گزرے ، نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔ گفتگو زیادہ تر سوال وجواب کے انداز میں ہوئی۔ سوالات اگر چہ زیادہ تر تنقیدی نوعیت کے تھے تاہم ساری گفتگو اتنے خوش گوار ماحول میں ہوئی گویا ہم لوگ "کشمیری شہد" کے موضوع پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ آخر میں میں نے کہا کہ قرآن و حدیث کے مطالعہ کے بعد ایمان واسلام کی جو مختصر ترین تعریف میری سمجھ میں آئی ہے ، وہ یہ کہ ابو جہل اور ابولہب کو جس خدا کے سامنے مرنے کے بعد کھڑا ہونا ہے، بندۂ مومن مرنے سے پہلے اپنے آپ کو اس خدا کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے۔ جنت انھیں لوگوں کے لئے ہے جو اپنے آپ کو اسی دنیا میں رب العالمین کے سامنے کھڑا کر دیں ۔ جس کو آخرت میں عدالت الہی میں کھڑا کیا گیا، اس کے لئے ناکامی اور بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ۲ اگست کا دن پہلگام میں گزرا۔ آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر یہ خوبصورت پہاڑی مقام اپنے حیرت انگیز مناظر کے ساتھ جنت کی یاد دلاتا ہے۔ درختوں کی لامتناہی قطاروں کے درمیان جگہ جگہ خوبصورت مکانات، ان کے نیچے شفاف پانی کا بہتا ہوا دریا۔ گویا جنات تجری من تحتها الانہار اور مساكن طيبة في جنات عدن کی تصویر ہے۔ خالص ہوا، سنہری دھوپ، نیلے آسمان کے اوپر مخمور بادلوں کے قافلے، اس قسم کے ناقابل بیان آفاقی مناظر کے درمیان ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدمی جنت کی فضاؤں میں پہنچ گیا ہے، سارا وقت بے حد خوش گوار گزرا۔ مگر آخر میں کسی وجہ سے میرے سر میں درد شروع ہو گیا جو رفتہ رفتہ شدید ہو گیا۔ سری نگر واپس آکر رات کو میں اپنی قیام گاہ پر لیٹا تو میری زبان پر یہ فقرہ تھا— "جنتی فضا اور ہر قسم کا سامان عیش کسی کو مل جائے جب بھی انسان اپنی کمیوں اور محدودیتوں کی وجہ سے ایک پورا دن بھی لطف و لذت کے ساتھ نہیں گزار سکتا۔ جنتی زندگی آخرت کی ابدی زندگی ہی میں ممکن ہے جہاں اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے "حزن اور خوف" کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دے گا۔ میں سری نگر میں ایک مقام پر تھا۔ ایک بوڑھے میاں آئے اور میرے، ایک ساتھی کے قریب جاکر اس کے کان میں پوچھنے لگے: "یہ کوئی درویش ہیں؟ "۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues

Printed page