Al-Risala · October 1978 · page 41

رودادسفر

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۴۱

درویش کا لفظ مسلمانوں اور خاص طور پر کشمیریوں میں خدا کے لفظ سے بھی زیادہ پر کشش ہے۔ کیسی عجیب بات ہے۔ لوگ درویشوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ مگر اس خدا سے ملنے کی کوشش نہیں کرتے جو عین ان کے قریب موجود ہے اور جس کو ہر وقت پایا جا سکتا ہے۔ سری نگر میں ایک صاحب میری قیام گاہ پر آئے۔ میں ان کو پہچانتا تھا۔ انھوں نے اصرار کیا کہ میں ان کے مکان پر چلوں۔ میں نے کہا کہ میری زندگی بے حد سادہ ہے۔ کھانے پینے کا مجھے کوئی شوق نہیں۔ پھر آپ مجھ کو مکان پر لے جا کر کیا کریں گے۔ تاہم ان کے شدید اصرار پر ان کے گھر گیا۔ پہلے میں سمجھا کہ شاید وہ مجھ کو "درویش" سمجھ کر اپنے گھر لے جا رہے ہیں۔ لیکن گھر پہنچ کر انھوں نے بتایا کہ آپ کی کتاب "الاسلام" میں نے تقریباً پندرہ بار پڑھی ہے اور اس وقت بھی وہ میرے زیر مطالعہ ہے۔ میں نے اسلام کے بارے میں بہت کچھ پڑھا ہے مگر اس کسی دینی حلقہ کا یہ حال ہے کہ اس کو ایسی موضوعات سے دل چسپی ہے جن میں سیاسی چاشنی ہو۔ کوئی اولیاء اور بزرگوں کی کرامات داستانوں میں مشغول ہے۔ کوئی فقہی جزئیات سے متعلق اختلافی بحثوں میں اس طرح پڑا ہوا ہے گویا سارا دین اس کے نزدیک یہی اختلافی مباحث ہیں۔ ہرایک نے دین کا کوئی جزئی یا اختلافی حصہ کاٹ لیا ہے اور رات دن اسی پر طبع آزمائی کر رہا ہے۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ کے چند بندے جہاں جمع ہوں وہ خدا کی خدائی کا چرچا کریں ۔ وہ آخرت کے دن کو یاد کریں ، وہ اسلام کے فرائض و واجبات پر گفتگو کریں۔ وہ متفق علیہ دین کا چرچا کریں نہ کہ مختلف فیہ دین کا ۔

ایک مجلس میں دعوتی کام کی اہمیت پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ ضرورت ہے کہ ایک ادارہ قائم کیا جائے جس کا کام صرف یہ ہو کہ وہ دعوتی مقاصد کے تحت تحریر کتاب نے پہلی بار مجھ کو اسلام سے متعارف کیا۔ “ دوسری طرف اسی نگری میں بعض ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جنہوں نے الاسلام کے مضامین پر اس قسم کی بحثیں کیں گویا اس کتاب میں ان کے لئے صرف بحث و مباحثہ کا مواد تھا نہ کہ کوئی دینی غذا۔ ذہنیت کا فرق کس طرح ایک ہی چیز کو دو مختلف چیز بنا دیتا ہے۔ یہاں کے مختلف دینی حلقوں میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ عجیب بات ہے کہ خواہ کشمیر ہو یا غیر کشمیر، ہر جگہ ایک ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ کسی دینی حلقہ کو اساسات دین سے دل چسپی نہیں۔ ہر ایک کی سب سے زیادہ دلچسپی متفرقـات دین سے ہے ۔ حالاں کہ یہ قرآنی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔

شائع کرے۔ اس سلسلے میں خاص طور پر مندرجہ ذیل چیزیں شائع کرنے کی ضرورت ہے۔

۱۔ قرآن وحدیث کے ترجمے اور رسول اللہ اور صحابہ کے واقعات سادہ زبان میں۔

۲۔ غیر مسلموں کی لکھی ہوئی اسلامی کتابیں ۔ مثلاً پرو فیسر آرنلڈ کی کتاب پریچنگ آف اسلام ، کونستان ورٹیل جارج کی پرافٹ آف اسلام ۔ اس طرح کی بہت سی نہایت عمدہ کتابیں ہیں ۔ ان کو مختلف زبانوں میں شائع کیا جائے ۔

۳۔ قبول اسلام کے بعد بہت سے لوگوں نے کتابیں لکھی ہیں جن میں اپنے اسلام سے متاثر ہونے کی روداد درج کی ہیں ۔ اس قسم کی کتابیں منتخب کرکے شائع کی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues

Printed page