رودادسفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۴۲
جائیں۔
بے ایک وسیع میدان ہم نے مناظرانہ انداز میں یہ شمار کتابیں چھاپ رکھی ہیں۔ مگر مثبت انداز کی کتابیں ابھی ہماری توجہ کا انتظار کر رہی ہیں۔ پہل گام کے پہاڑ پائنس (Pinus) کے درختوں سے بھرے ہوئے ہیں، یہ درخت سیدھے لمبے ہوتے ہیں، اور ان کی ایک سو سے زیادہ قسمیں دنیا کے مختلف حصوں میں پائی جاتی ہیں۔ ان کی شاخیں چھوٹی اور بہت کم پھیلی ہوتی ہیں۔ تاکہ تھوڑی جگہ میں زیادہ درخت اگ سکیں۔ چوں کہ یہ درخت ڈھلوانوں پر ہوتے ہیں جہاں بارش کا پانی ٹھہرتا نہیں۔ اس لئے ان کی جڑیں زمین میں گہری نہیں جاتیں بلکہ اوپر اوپر دور تک پھیلتی ہیں تاکہ زیادہ بڑے رقبہ سے پانی کھینچ سکیں۔ ان کی پتیاں عام درختوں کی طرح چوڑی نہیں ہوتیں۔ اگر چوڑی ہوں تو زیادہ مقدار میں پانی خارج کر کے درخت کے لئے پانی کی قلت کا مسئلہ پیدا کر دیں۔ اس لئے ان کی پتیاں سوئی کی طرح پتلی ہوتی ہیں۔ اسی بنا پر ان کو اصطلاح میں پتی کے بجائے سوئی (Needle) کہا جاتا ہے۔
پائنس کی پتیاں سرو کی طرح گچھے دار ہوتی ہیں۔ حیرت انگیز بات ہے کہ ان میں کامل حسابی تناسب پایا جاتا ہے۔ بعض نسل کے گچھوں میں ایک ڈنٹھل میں صرف ایک ”سوئی“ ہوتی ہے۔ کسی میں دو، کسی میں تین، کسی میں چار، کسی میں پانچ۔ پہل گام میں جو پائنس پایا سے زیادہ۔ کھرب ہا کھرب پتیوں میں یہ مکمل حسابی تناسب کیا اتفاقاً ہو گیا ہے۔ کیا اس کے پیچھے کسی مقصد سازی کی طاقت کام نہیں کر رہی ہے۔
سری نگر سے پہل گام جاتے ہوئے ایک مقام پر میرے ساتھی نے بتایا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں کشمیر کا زعفران پیدا ہوتا ہے۔ سڑک کے کنارے زمین جوت کر تیار کی جارہی تھی۔ ابھی اس پر فصل نہیں بوئی گئی تھی۔ بظاہر دیکھنے میں اس کی مٹی ویسی ہی تھی جیسی دوسری مٹی۔ مگر چند کلومیٹر کا یہ قطعہ نہ صرف کشمیر بلکہ ساری دنیا میں اپنی خصوصیات کے اعتبار سے نرالا تھا۔ یہاں وہ قیمتی زعفران پیدا ہوتا ہے جو دنیا بھر میں کہیں اور پیدا نہیں ہوتا۔ دو کھیت بظاہر ایک ہی جیسے ہیں، مگر ایک میں جھاڑ جھنکار اگتا ہے اور دوسرے میں زعفران۔ یہی حال انسانوں کا ہے۔ دو انسان بظاہر دیکھنے میں ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں۔ مگر ایک کے سامنے حق کے دلائل آتے ہیں تو وہ اس کے قلب کو روشن کر دیتے ہیں۔ دوسرے کے سامنے آتے ہیں تو وہ صرف اس کے اندھیروں میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایک کے یہاں اس سے حق کا چمنستان اگ آتا ہے اور دوسرے کے یہاں صرف جھاڑ جھنکار۔
زلزلہ قیامت از مولانا وحید الدین خاں اس کتاب کا ایک حصہ رسالہ ماہ ستمبر میں شائع ہو چکا ہے۔ (Pinus Wallichiana) سوئیوں والا سُوچ جاتا ہے یا بچ جاتا ہے ۔ چاہا ہے وہ پاپا تو نہیں سنتا، ہے۔ میں نے بہت سی پتیاں لے کر ان کی سوئیاں گنیں۔ ہر ڈنٹھل میں پانچ ہی سوئیاں ملیں نہ اس سے کم نہ ہی اس کتاب کا ایک حصہ پڑھنے والوں تک پہنچ رہا ہے۔ پوری کتاب ۶۴ صفحات پر مشتمل ہے۔ قیمت تین روپے ہے۔ مکتبہ الرسالہ سے طلب فرمائیں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues