رودادسفر
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۷
تعارف و تبصرہ اسلامی سیاست یا سیاسی اسلام از مولانا حکیم ابو الحسن عبید اللہ خاں صفحات304 قیمت چھ روپے پتہ : محمد رمضان نیوز پیپر ایجنسی نزد روزنامہ آفتاب سری نگر - کشمیر ۷- مکتبہ مسلم ۔ میر بر شاہ ۔ سری نگر ۸- غلام نبی ڈکہ۔ نئی سڑک۔ گڈ آہل میر۔ سری نگر زیر نظر کتاب کا موضوع موجودہ زمانہ کی وہ تحریکیں ہیں جنھوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کی اور انتخابی سیاست کے ذریعہ اسلامی نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ مذکورہ تحریکوں کا کہنا ہے کہ اسلام ایک ہمہ گیر نظام ہے۔ انفرادی، معاشرتی اور سیاسی تمام معاملات زندگی سے اس کا تعلق ہے۔ اور ضروری ہے کہ تمام شعبوں کے ساتھ اس کو قائم کیا جائے۔ مصنف کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ بات بجائے خود صحیح ہے کہ زندگی کا ہر شعبہ شریعت اسلامیہ کے اوامر و نواہی کی گرفت میں ہے۔ مگر اللہ نے کسی ایک فرد امت کو اس بات کا مکلف نہیں کیا کہ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں قدم رکھے۔ " کیا حضور نے اپنی پوری زندگی میں وآتوا الزکواۃ یا آو تو حقہ یوم حصادہ پر عمل کیا۔ کتنے قرآنی احکام ہیں جن سے آپ کو زندگی بھر واسطہ نہیں پڑا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ نے شادی نہیں کی۔ وغیرہ۔ بات یہ ہے کہ فرد واحد شریعت کے جملہ احکام کا مخاطب نہیں ہوتا۔ کل دین کی پیروی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا تعلق جس خاص شعبہ زندگی سے ہے اس میں کتاب شریعت کے جملہ اوامر و نواہی کی پابندی کرے اپنے شعبہ ٔمعیشت سے باہر قدم رکھنے کا شرعاً کوئی بھی مکلف نہیں (۱۷)
کتاب میں مفید علمی نکتے بھی آگئے ہیں، مثلاً غزوۂ بدر کے ستر قیدیوں کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب سے مشورہ فرمایا، ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے ہوئی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سب کو قتل کر دیا جائے۔ پہلی رائے کی مصلحت یہ تھی کہ مسلمانوں کے پاس مال نہ ہونے کی وجہ سے سامان جنگ کی کمی تھی۔ فدیہ کی رقم سے سامان جنگ حاصل کیا جا سکتا تھا۔ دوسری رائے کی مصلحت یہ تھی کہ سرداروں کی گرفتاری کی وجہ سے گویا کفر کی پوری طاقت مسلمانوں کی مٹھی میں آ گئی تھی ۔ ان کا خاتمہ کر کے اسلام کے خلاف مزاحمت کا مکمل خاتمہ کیا جا سکتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے اسیروں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ اس کے بعد قرآن میں آیت اتری جس میں کہا گیا لولا کتاب من اللہ سبق لمسكم فيما اخذتم عذاب عظیم (انفال ٦٨) اس آیت کی تفسیر میں بڑی لمبی بحثیں کی گئی ہیں۔ مصنف نے نہایت عمدہ اور فطری تشریح حسب ذیل الفاظ میں کی ہے: (صفحہ ۹۳)
"اگر اللہ کی کتاب تقدیر تمھاری سرفرازی و ظفر مندی کا فیصلہ پہلے ہی سے نہ کر چکی ہوتی تو تمہیں اس غلط سیاسی فیصلے (فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑنے) کے باعث (دنیا میں) سخت مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑتا۔ " X سورج ایک بے حد روشن حقیقت ہے۔ مگر جو شخص اپنی آنکھیں بند کرلے، اس کے لئے سورج کا کوئی وجود نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues