الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۴
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۴
کے ساتھ فیصلہ کرو۔ بے شک اللہ تم کو بہت اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے۔ اور یقیناً اللہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ (نساء ۵۸)
ایان والے وہ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں ۔ اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ وہ نماز کی پابندی کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں، یہی لوگ سچے ایمان والے ہیں، مان کے رب کے پاس ان کا بڑا مرتبہ ہے، قصوروں سے درگزر ہے، اور بہترین روزی ہے۔ (انفال نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے پورب کی طرف کرلئے یا پچھم کی طرف۔ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو، آخرت کے دن کو، فرشتوں کو، آسمانی کتابوں کو اور پیغمبروں کو مانے۔ اللہ کی محبت میں اپنا مال دے رشتہ داروں کو، یتیموں کو، محتاجوں کو، مسافروں کو، سوال کرنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں۔ نماز کی پابندی کرے اور زکوٰۃ ادا کرے۔ اور نیک لوگ وہ ہیں کہ جب عہد کریں تو اس کو پورا کریں، اور تنگی و مصیبت میں اور مقابلہ کے وقت صبر کریں۔ یہی لوگ ہیں جو سچے اترے اور یہی لوگ متقی ہیں۔ (بقرہ ۱۷۷)
وہ جب اس کلام کو سنتے ہیں جو پیغمبر پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، اس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ بول اٹھتے ہیں اے ہمارے رب ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ ہم کیوں نہ اللہ پر ایمان لائیں اور اس حق پر جو ہمارے پاس آیا ہے جب کہ ہم اس بات کی حرص رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں میں شامل کرے۔ ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ ان کو ایسے باغ دے گا جن کے نیچے ندیاں بہہ رہی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے بدلہ نیکی کرنے والوں کا۔ (مائدہ ۸۵ - ۸۳) جولوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر خرچ کرنے کے بعد احسان نہیں رکھتے اور نہ ستاتے ، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ ان کے لئے نہ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ایک معقول بات اور درگزر ایسے صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے ستانا ہو۔ اللہ بے نیاز اور تحمل والا ہے۔ اے ایمان والو، اپنے صدقات کو احسان جتا کر یا تکلیف پہنچا کر ضائع نہ کرو۔ جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے اور جو نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ آخرت کے دن پر (بقرہ ۲۶۴ - ۲۶۲)
اے ایمان والو سود کی کئی حصہ بڑھا کر نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو اور اس آگ سے ڈرو جو منکروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اللہ اور رسول کا حکم مانو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت سارے آسمان اور زمین میں اور جو خدا سے ڈرنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے. جو فراغت اور تنگی دونوں میں خرچ کرتے ہیں، جو غصہ کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کوئی برا کام ہو جاتا ہے یا اپنی جان پر کوئی ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ انھیں یاد آجاتا ہے، اور وہ اپنے گناہوں سے معافی مانگنے لگتے ہیں۔ اور کون معاف کر سکتا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues