Al-Risala · February 1978 · page 5

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۵

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۵

گناہوں کو بجز اللہ کے۔ اور یہ لوگ اپنے فعل پر اصرار نہیں کرتے درآں حالیکہ وہ جان رہے ہوں۔ ایسے لوگوں کی جزا ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں انھیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ کیسا اچھا بدلہ ہے عمل کرنے والوں کے لئے۔ (آل عمران ۳۶ - ۱۳۰)

تیرے رب نے حکم کر دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اف بھی نہ کہو، نہ انھیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ادب کے ساتھ بات کرو۔ ان کے سامنے شفقت اور انکساری کے ساتھ جھکے رہو، اور اس طرح دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب! ان پر رحم فرما، جیسے انھوں نے مجھے بچپن میں پالاتھا ۔ تمھارارب خوب جانتا ہے جو تمہارے جی میں ہے۔ اگر تم نیک بن کر رہو تو وہ رجوع کرنے والوں کی غلطی کو معاف کر دیتا ہے۔ رشتہ داروں کا حق دو، اور محتاج کو، اور مسافر کو۔ فضول خرچی نہ کرو، فضول خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی بند ہیں۔ اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ اپنے رب کی طرف سے جس رزق کے آنے کی تم کو امید ہو، اگر اس کے انتظار میں تم کو ان سے پہلو تہی کرنا پڑے تو ان کو نرم جواب دے دو۔ نہ تو ایسا ہو کہ تم اپنا ہاتھ گردن سے باندھ لو اور نہ اسے بالکل کھلا چھوڑ دو کہ تم بالآخر ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ۔ تیرا رب جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے، اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے اور دیکھ رہا ہے۔ اپنی اولاد کو مفلسي کے ڈر سے نہ مار ڈالو۔ ہم ان کو بھی روزی دیتے ہیں اور تم کو بھی۔ یقیناً ان کو مار ڈالنا بہت بڑا گناہ ہے۔ بدکاری کے پاس نہ جاؤ، وہ بے حیائی ہے اور بری راہ ہے۔ قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے، مگر حق کے ساتھ۔ اور جو ظلم سے قتل کیا گیا ہو تو اس کے وارث کو ہم نے قصاص کا مطالبہ کا حق دیا ہے، پس چاہئے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اس کی مدد کی جائے گی۔ یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ، مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں۔ عہد کو پورا کرو، بے شک عہد کے بارے میں پوچھ ہونے والی ہے۔ پیمانے سے دو تو پورا بھرکردو، اور تولو تو صحیح ترازو سے تول کر دو یہ بہتر طریقہ ہے اور اس کا انجام بھی اچھا ہے۔ ایسی چیز کے پیچھے نہپڑو جس کا تمہیں علم نہ ہو، کیونکہ کان اور آنکھ اور دل، ان سب کی بابت ہر ایک سے پوچھ ہوگی۔ زمین میں اکڑ کر نہ چلو۔ تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو۔ یہ سارے برے کام تیرے رب کو سخت ناپسند ہیں۔ یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تم پر وحی کے ذریعے سے بھیجی ہیں۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنانا ورنہ تم جہنم میں پھینک دیئے جاؤ گے، ملامت زدہ اور راندہ ہو کر۔ (بنی اسرائیل ۲۹-۲۳)

لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا، بیٹے! خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا، بلاشبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے۔ اس کی ماں نے تھک تھک کر اس کو پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھپتا ہے، اس لئے ہم نے نصیحت کی کہ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر کر۔ میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اگر والدین تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک مانے جس کو تو نہیں جانتا

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page