مراسلات
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۷
مراسلات
مولانا وحید الدین خاں صاحب کے طرز تحریر کی اس خوبی سے کسی کو انکار نہیں کہ موصوف کا قلم اسلام کے اعتقادی اور عباداتی مسئلہ کو عصر حاضر کے مؤثر اسلوب میں آج کے سائنسی ذہن کو مطمئن کرنے کی کامیاب کوشش کرتا ہے۔ موصوف مسلمانوں کے ذہنی جمود، رسم پرستی اور اسلامی سیاست کے نام پر ٹہرونک بازی اور استحصال پسندی پر بھر پور وار کرتے ہیں۔ بلا شبہ یہ مسائل اجتہادی ہیں اور مولانا کو بھی ان مسائل پر ایک رائے رکھنے کا پورا پورا حق پہنچتا ہے۔ لیکن علماء کرام کو زیادہ شکایت اس معاملہ میں ہے کہ موصوف جمال الدین افغانی سے لے کر مودودی صاحب تک تمام انقلابی رہنماؤں پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور یہ لکھتے ہیں کہ یہ لوگ قوم کو ایک لامتناہی جنگ میں الجھارہے ہیں‘ (۱۷۵) یہ بات چوٹی کے مسلم رہنماؤں کے بارے میں ہمیں کتنی ہی ناگوار گزرے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ۹۹ فی صد مسلم رہنما وہ ہیں جو اسلام کی سربلندی اور اعلان کلمۃ الحق کے نام پر مسلمانوں کے خون کی تجارت کر رہے ہیں۔ وہ ابتدا میں خود بھی اسی تصور کے حامی تھے۔ موصوف کے سامنے اس قسم کی تحریکات کے نقصان دہ نتائج واضح ہیں اور وہ ملت اسلامیہ کو بھی دکھانا چاہتے ہیں۔ تعلیمی اور سماجی تعمیر و اصلاح کا کام نہایت صبر آزما ہے اور حکومت الہیہ اور اقتدار اسلامی کے احیاء و قیام کا نعرہ نہایت جذبات انگیز ہے، اس نعرہ پر آپ قوم کی تھیلیاں خالی کرا سکتے ہیں اور کرانے والے کرارہے ہیں۔ لیکن کسی ٹھوس تعلیمی اور دینی کام کے لئے آپ مارے مارے پھرتے ہیں لیکن کوئی توجہ دینے والا آپ کو نظر نہیں آتا :
ہر صاحب بصیرت عالم اس صورتِ حال پر ماتم کرتا ہے ۔ مولانا وحیدالدین خاں صاحب بھی اس جذباتی ذہن کو للکارتے ہیں اور اس ذہن کی پیدائش کا جو سرچشمہ ہے اس پر کاری ضرب لگاتے ہیں۔
راقم کے سامنے ’’ظہور اسلام“ کتاب ہے ، اس کے ۴۴ ، اور ۵۷ صفحات کو غور سے دیکھیے ، مؤلف کی نکتہ چینی کا انداز آپ کو ضرور سخت لگے گا، لیکن مؤلف کے اخلاص دینی اور ملی خیر خواہی کے جذبہ سے انکار ممکن نہیں۔
بعض احباب کہتے ہیں کہ خاں صاحب مسلم سامراج کے وکیل ہیں، یہ نیت پر حملہ کی بات ہے، کیونکہ یہی مؤلف اطاعتِ امیر کی احادیث کے تحت یہ بات بھی لکھتا ہے ”اس ہدایت کا مطلب امت کو ظالم حکمرانوں کی بے زبان رعیت بنانا نہیں (71) آزاد ہندوستان میں ہر صاحب عقل آدمی کو خاں صاحب کی اس رائے کا وزن محسوس ہورہا ہے ۔
مؤلف محترم جب رواجی تصوف پر تنقید کرتے ہیں تو موصوف کے سامنے مذہبی پیشواؤں کی وہ دکانیں ہوتی ہیں جو ان لوگوں نے مسجدوں اور خانقاہوں میں لگا رکھی ہیں۔ جو مقامات توہم پرستی کا قلع قمع کرنے اور اس کی جگہ توحید پرستی قائم کرنے کے لئے بنائے گئے تھے وہاں آج کیا ہورہا ہے؟ مشرکانہ جادو ٹونے کی تجارت فقہ کے معاملہ میں مؤلف دورِ رسالت و صحابہ کی سادگی کی طرف بلاتے ہیں اور نفلی عبادات اور اس کے فقہی مسائل نے آج دین دار طبقہ کو جن لا طائل بحثوں اور گروہ بندیوں میں پھنسا رکھا ہے اس سے نجات دلا
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues