مراسلات
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۸
کر اصولِ اسلام اور فرائضِ شریعت پر پورازور صرف کرنے کی تلقین کرتے ہیں ۔ اور یہ وہ مسئلہ ہے جس پر امام شاہ ولی اللہ دہلوی نے حجۃ اللہ البالغہ میں بہت کچھ لکھا ہے ، خان صاحب اگر لکھتے ہیں تو ان پر ناراض ہونا بے کار ہے۔
”الاسلام“ اور ”ظہورِ اسلام“ کے مؤلف محترم نے شریعت کی عام اصطلاحات کو چھوڑ کر بعض مسائل میں خود اپنی وضع کردہ اصطلاحیں استعمال کی ہیں۔ اگر مؤلف ان سے گریز کرتے تو علماءِ عصر کو ان سے زیادہ شکایت نہ ہوتی۔ اپنی اصطلاحوں کے مسئلہ نے شیخ ابنِ عربی کی شخصیت اور ان کے خیالات کو کس قدر متناعی بنا دیا ہے۔
مولانا نے ظہورِ اسلام (۱۷۰) میں لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خارقِ عادت معجزات نہیں دیئے گئے“۔ ظاہر ہے کہ حضور کو معجزات عطا کئے گئے، مولانا بھی اسے تسلیم کرتے ہیں۔ پھر اس نفی کا کیا مطلب ہے ؟ یہی حال بعض تاریخی توجیہات کا ہے۔
حضرت عثمان غنی کی شہادت پر مؤلفِ محترم لکھتے ہیں کہ ”یہ دراصل شریعت کے حکم کی تعمیل تھی۔ (ظہورِ اسلام (۶۹) اور اس کے لئے مثال ہابیل قابیل کی دی ہے ، لیکن یہ بات وضاحت طلب ہے کہ حضرت عثمان کا قتل ایک فردِ واحد کا قتل تھا یا ملت کی اجتماعیت کا قتل تھا، ایک خلیفہ وقت ملت کی شیرازہ بندی کا نشان ہوتا ہے اگر وہ کسی فتنہ کو دفع کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو اس وقت اس کا فرض کیا ہونا چاہئے ؟ اپنے آپ کو قتل کے حوالہ کر کے ملت کو انتشار کے حوالے کرنا یا بزورِ شمشیر اس فتنہ کو ختم کر کے ملی اجتماعیت کی حفاظت کرنا۔ کیا یہ تاریخی حقیقت نہیں ہے کہ خون عثمان کے حربے نے بنی امیہ کی خاندانی عصبیت کو فتنه انگیزی کا موقع دیا اور پھر صفین اور کربلا اور مابعد تک جو معرکے برپا ہوئے سب اسی کے ثمرات تھے ۔
(مولانا اخلاق حسین قاسمی۔ صدر جمعیتہ علماء صوبہ دہلی عرض الرساله ۱۔ معجزات کے سلسلے میں ہم نے کوئی نئی بات نہیں کہی ہے۔ معجزہ کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ــ وہ خارق عادت واقعہ جو نبوت کے اثبات کے لئے منکرین کے مطالبہ پر پیش کیا جائے ۔ قرآن کی صراحت ہے کہ اس قسم کا فرمائشی معجزہ یا بالفاظ قرآن " آیت " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیا گیا ( بنی اسرائیل (۵۹) منکرین کی طرف سے جب آیت (نشانی، معجزہ) کا مسلسل مطالبہ ہوا تو کہا گیا کہ یہ قرآن جو اتار اگیا ہے یہی ہماری طرف سے آیت ہے (عنکبوت ۵۱) صحیحین کی یہ روایت ظہور اسلام صفحہ ۱۸۲ پر نقل کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کو زمانہ کے لحاظ سے کوئی آیت ( دلیل رسالت) ضرور دی گئی ہے۔ مگر مجھ کو جو چیز دی گئی، وہ صرف قرآن ہے (وانما کان الذی اوتیته وحیا اوحاه اللہ الی)
مولانا سید سلیمان ندوی اور دوسرے حضرات نے آپ کے جو خارق عادت واقعات جمع کئے ہیں، ان کے برحق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ مگر ان کو جو لوگ معجزہ کہتے ہیں وہ مجازی طور پر کہتے ہیں۔ کیوں کہ یہ سب نصرت کے واقعات ہیں نہ کہ حقیقت معجزہ کے واقعات۔ امت کے متفقہ عقیدہ کے مطابق قرآن ہی آپ کا دائمی معجزہ ہے۔ شق قمر کے بارے میں کچھ لوگوں کو شبہ ہوتا ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues