ٹائپ کی چھپائی
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۹
وہ مطالبہ کفار پر پیش آیا تھا۔ مگر یہ غلط فہمی ہے۔ کیونکہ روایات میں جو الفاظ آئے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ یہ واقعہ فلکیاتی اسباب کے تحت بطور خود پیش آیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹا تو آپ نے لوگوں سے کہا کہ یہ دیکھ لو (انشق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم شقتين حتى نظروا اليه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اشهد وا، ابن کثیر) ۴۔ خلیفہ سوم رضی اللہ عنہ کے سلسلے میں یہ ثابت ہے کہ آپ کا رویہ کسی کمزوری کی بنا پر نہ تھا بلکہ تمام تر عالی ظرفی مظفر حلیم (متوفی ۹۳۳ھ) والی گجرات اور محمود خلجی والی مانڈو (احمد آباد) دونوں ہم زمانہ تھے ان میں باہم لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں ۔ محمود خلجی اکثر گجرات پر حملہ کرتا تاکہ اس خوبصورت اور سرسبز ملک کو اپنی قلمرو میں شامل کرلے۔ تاہم اسے اپنے اس ارادہ میں کامیابی نہ ہوسکی۔ اس درمیان میں ایسا ہوا کہ محمود خلجی کے وزیر منڈلی رائے نے موقع پا کر سلطان کو تخت سے نے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کی تعمیل میں تھا۔ یوم الدار (محاصرہ کے زمانہ) میں جب آپ سے کہا گیا کہ آپ ان مسلمانوں سے جنگ کیوں نہیں کرتے تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد لیا ہے کہ میں جنگ نہ کروں (ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عہد الی عہد اوانی صابر نفسی علیہ، ۱۰، احمد عن عائشہ) محاصرہ کے وقت عثمان رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا تو انھوں نے کہا: الكف الكف ، البدایہ والنہایہ) ایسی حالت میں ظہور اسلام میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ صرف ایک حکم رسالت کی توجیہہ ہے۔ نہ کوئی ذاتی رائے۔
ٹائپ کی چھپائی
اردو، فارسی، عربی، ہندی، انگریزی کی چھپائی عمدہ ٹائپ میں ۔ ہر زبان کی پروف ریڈنگ اور صحت کا خاص اہتمام۔ ٹائپ کے ساتھ بلاک کی چھپائی اور کلر پرنٹنگ کا خاطر خواہ انتظام معلومات کے لئے لکھئے: کوثر پریس ۔ سرائے میر۔ اعظم گڑھ 276305 کر دیا اور خود ملک پر قابض ہو گیا۔
سلطان محمود خلجی کو معلوم تھا کہ سلطان مظفر حلیم اگر چہ اس کا حریف ہے مگر ایک شریف انسان ہے۔ وہ جرات کر کے اس کے پاس پہنچا اور اس سے اپنے وزیر کے خلاف مدد کی درخواست کی۔ سلطان مظفر فوراً اس کی مدد کے لئے تیار ہو گیا اور اپنی فوج لے کر مانڈو پہنچ گیا۔ زبردست مقابلہ کے بعد منڈلی رائے کی فوج نے ہتھیار ڈال دیئے اور گجرات دوبارہ فتح ہو گیا۔ سلطان مظفر کے فوجی سرداروں نے کہا کہ اس ملک کو ہم نے لڑ کر فتح کیا ہے ۔ اب اس کو محمود خلجی کے حوالے کرنا مناسب نہیں ۔ آپ اس کو اپنی قلمرو میں شامل کرنے کا اعلان کر دیں ۔ سلطان مظفر حلیم نے اس کو اپنی حمیت و غیرت کے خلاف سمجھا اور اس مشورہ کو ماننے سے قطعاً انکار کر دیا۔ تاہم اس کو اندیشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی فاتح فوج کوئی مسئلہ کھڑا کر دے۔ اس نے اپنی فوجوں کو حکم دیا کہ کوئی بھی شخص مفتوحہ شہر میں داخل نہ ہو اور سب کو فوری طور پر اپنے وطن کی طرف واپسی کا حکم دے دیا۔ (آصفی کی عربی تاریخ ”ظفر الواء")
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues