Al-Risala · February 1978 · page 6

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۶

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۶

تو ان کا کہنا نہ مان۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ، مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ تم سب کو میرے پاس آنا ہے۔ اس وقت میں بتا دوں گا جو کچھ تم کر رہے تھے۔ اور لقمان نے کہا۔ اے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر بھی ہو اور کسی پتھر کے اندر یا آسمان یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو، اللہ اس کو نکال لائے گا، بیشک اللہ بڑا باریک بین اور باخبر ہے۔ اے بیٹے! نماز کی پابندی کر، بھلی بات لوگوں کو سکھا، اور برے کاموں سے منع کر۔ اور جو کچھ تجھ پر پڑے اس پر صبر کر، بلاشبہ یہ ہمت کے کام ہیں۔ لوگوں سے اپنا رخ نہ پھیر، زمین میں اکڑ کر نہ چل، بیشک اللہ خود پسند اور فخر کرنے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اپنی آواز کو نرم رکھ، سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔ (لقمان ۱۹ - ۱۳)

یقیناً کامیاب ہو گئے ایمان والے جو اپنی نماز میں زاری کرنے والے ہیں۔ جو بے فائوہ باتوں سے دور رہتے ہیں۔ جو زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں کہ ان پر انہیں کوئی الزام نہیں۔ البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں؛ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا خیال رکھتے ہیں، جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، ایسے ہی لوگ وارث ہونے والے ہیں جو فردوس کے وارث ہوں گے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (مؤمنون رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں، اور جب بے سمجھ لوگ ان سے بے سمجھی کی بات کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔ جو راتوں کو اپنے رب کے آگے سجدہ اور قیام میں لگے رہتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! دوزخ کے عذاب کو ہم سے ہٹا دے، اس کا عذاب تو لازم ہو جانے والا ہے، وہ برا ٹھکانا ہے اور بری جگہ ہے رہنے کی۔ وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی، ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر رہتا ہے۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے۔ اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو نہیں مار ڈالتے مگرحق پر۔ وہ بدکاری نہیں کرتے اور جو کوئی ایسا کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا، قیامت کے دن اس کا عذاب بڑھتا چلا جائے گا، اور وہ ہمیشہ اس میں رسوا ہو کر رہے گا الا یہ کہ کوئی تو بہ کرلے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ جو شخص توبہ کر کے نیک عملی اختیار کرتا ہے، وہ اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے اور رحمن کے بندے دہ ہیں جو بیہودہ باتوں میں شامل نہیں ہوتے اور اگر کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوتا ہے تو سنجیدگی کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب خدا کی باتوں سے ان کو نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اندھے بہرے ہو کر اس پر نہیں گرتے، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک دے اور کر دے ہم کو پرہیزگاروں کے آگے ۔ یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر کا پھل بالا خانوں کی شکل میں پائیں گے۔ وہاں سلام و دعا کے ساتھ ان کا استقبال ہو گا۔ وہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔ وہ کیسا اچھا ٹھکانہ ہے اور کیسی خوب جگہ رہنے کی۔ (فرقان ۷۶ - ۷۳) اے ایمان والو، نہ مرد دوسرے مرد کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page