ٹائپ کی چھپائی
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۱
مذہب اور جدید چیلنج پر ایک یادگار تبصره "مذہب اور جدید چیلنج" کا پہلا ایڈیشن جو علم جدید کا چیلنج کے نام سے 1966 ہمیں چھپا تھا، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا محمد عامر عثمانی مرحوم نے اپنے رسالہ تجلی کے "آغاز سخن" میں مفصل نوٹ شائع کیا تھا۔ اس کا ایک جز اں نقل کیا جاتا ہے:
"اس کتاب کا تذکرہ کرنا آج میں ہر دوسرے موضوع سے زیادہ محبوب نظر آرہا ہے۔ خدا مصنف کو بہترین اجر عطا فرمائے۔ ہمارے علم کی حد تک یہ کتاب اپنے موضوع پر دنیا کی واحد کتاب ہے۔ اس کا موضوع فقط یہ نہیں کہ سائنس کے مقابلہ پر مذہب کا اثبات کیا جائے ۔ بلکہ اس کے موضوع کا تشخص تقریباً ان الفاظ میں ہو سکتا ہے کہ ملحد سائنس دانوں اور فلسفیوں کا ردِ ٹھیک اسی علمِ کلام کے ذریعہ جسے یہ لوگ مذہب کی تردید میں استعمال کرتے ہیں۔
اس کتاب کی تعریف کا حق محض یہ کہہ کر ادا نہیں ہو سکتا کہ یہ ٹھوس ہے، مفید ہے، قیمتی ہے۔ اس طرح کی باتیں تو اس سے کمتر کتابوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہیں۔ ہمیں کہنا چاہئے، اور یہ ہمارے دل کی آواز ہے کہ یہ کتاب وہ فرض کفایہ ہے جسے مصنف کی سعادت مندی اور توفیق اور خدا داد صلاحیت نے پوری امت کی طرف سے ادا کیا ہے ۔
نہیں ۔ یہ بھی ہم نے غلط کہا۔ فرض کفایہ فرائض کی بہت ہلکی قسم ہے۔ یہ فکرِ نو کے مذہب و شمع اور قدر نا پیرار طوفان کے آگے فولادی دلائل کا بند باندھنا ، ملحد مفکرین کے تباہ کن علم کلام کا توڑ مہیا کرنا اور مذہبی عقائد اقدار کو خیرہ کن سفسطوں کی یلغار سے بچانا آج اتنا بڑا فریضہ ہے جسے فرض الفرائض بھی کہہ دیں تو مبالغہ نہیں۔
مصنف نے اگر ڈیوٹی انجام دی ہے تو ملت کے دیگر اہل افراد کے ذمے سے یہ ڈیوٹی ساقط نہیں ہو جاتی۔ اگر ہمیں حقیقت اور واقعات کا احساس و ادراک ہوتا تو جس طرح ہم مدرسے اور مکتب چلانے کے لئے قوم سے چندہ لیتے اور بڑے بڑے خرچ پرچے کرتے ہیں ، اسی طرح اس کتاب کو اردو ، ہندی، انگریزی اور دنیا کی تمام قابل ذکر زبانوں میں بھاری تعداد میں چھاپتے ، پھیلاتے ، مفت پہنچاتے۔
مصنف نے اپنی کتاب میں جوابی بحث کے ذیل میں جو سائنسی معلومات جمع کی ہیں وہ بجائے خود اس کتاب کو بہت قیمتی بنا دیتی ہیں۔ اللہ اکبر ، کیا کیا ایمان تازہ ہوتا ہے ان جدید تر سائنسی اکتشافات کو دیکھ کر جن سے یہ کتاب روشناس کراتی ہے۔ کتنی قطعیت کے ساتھ ہر تازہ سے تازہ تر انکشاف گواہی دے رہا ہے کہ مذہب اٹل ہے ، مذہب برحق ہے، مذہب سے بے تعلق ہو کر انسانی معاشرہ نہ پہلے کبھی فلاح کو پہنچا نہ آج پہنچ سکتا ہے۔
مصنف کی کتاب پڑھ کر ہم ایسی کیفیت محسوس کر رہے ہیں کہ اگر وہ ہمارے سامنے ہوں تو ہم والہانہ انداز میں ان انگلیوں کو چوم لیں جن کی جنبش اس کتاب کو ظہور دینے کا ذریعہ بنی ہے۔
(ماہنامہ تعلیمی دیوبند۔ جولائی۔ اگست ۱۹۶۶)
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues