ٹائپ کی چھپائی
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۲
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوا۔ ایک شخص نے ناجائز طور پر دوسرے کی زمین پر قبضہ کر لیا تھا، مگر اس کی قانونی خانہ پُری “ اتنی مکمل تھی کہ ظاہری طور پر اس کے خلاف فیصلہ دینا بھی مشکل تھا۔ آپ نے فرمایا ’’تمہاری ہوشیاری کی بنا پر اگر عدالت نے تمہاری موافقت میں فیصلہ دے دیا تو سمجھو کہ اس نے تم کو آگ کا ایک ٹکڑا دیا ہے۔ گویا اس آدمی کے عمل کا نتیجہ دنیوی اعتبار سے تو زمین کا ایک محبوب ٹکڑا تھا۔ مگر آخرت کے اعتبار سے وہ بھڑکتی ہوئی آگ کا ایک شعلہ تھا۔ وہ اپنے عمل سے پیچھے کی دنیا میں زمین چھوڑ رہا تھا اور آگے آخرت کی دنیا میں آگ بھیج رہا تھا۔ اسی طرح نیک اعمال کا معاملہ بھی ہے۔ امام احمد نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول غصہ کے بارے میں نقل کیا ہے : ما تجرع عبد جرعة من لبن او عسل خیر من کسی بندہ نے غصہ کے گھونٹ سے بہتر دودھ یا شہد جرعة غیظ کا گھونٹ نہیں پیا۔
غصہ کو پی جانا دنیا کے اعتبار سے انتہائی کڑوا گھونٹ ہے۔ مگر اس عمل کا جو اخروی ثمنی ہے، وہ دودھ اور شہد سے بھی زیادہ میٹھا اور لذیذ ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ گرمی کی شدت جہنم کی سانس کی وجہ سے ہوتی ہے (إن شدة الحر من فیح جهنم) اسی طرح حدیث معراج میں ہے کہ آپ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے تو وہاں آپ نے چار نہریں دیکھیں۔ دو نہریں اندر بہتی تھیں اور دو باہر۔ جبریل نے بتایا کہ اندر اندر بہنے والی نہریں تو بہشت کے دریا ہیں اور اوپر اوپر بہنے والے نیل اور فرات۔ گویا موجود دنیا اور آخرت کی دنیا ایک ہی واقعہ کے دو پہلو ہیں۔ دنیوی پہلو حقیر اور عارضی ہے۔ اخروی پہلو بہتر اور مستقل۔ آج ہم دنیوی پہلو سے دو چار ہیں۔ موت کے بعد ہم اخروی پہلو سے دوچار ہوں گے۔
انسانی عمل کے اس دو گونہ پہلو کو حدیث معراج میں مختلف تمثیلات کے ذریعہ بتایا گیا ہے۔
○ انسانوں کی ایک قسم یہ بھی ہے عمر بن ربیعہ (۹۳ - ۳۲ ھ) ایک شاعر تھا جو زیادہ تر عشقیہ مضامین نظم کرتا تھا۔ حتی کہ شریف خاندان کی عورتوں کا نام لے کر ان کے بارے میں عوریاں اشعار کہنے لگا۔ اس کے خلاف شکایات حکومت تک پہنچیں۔ چنانچہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس کو دھلک میں جلا وطن کر دیا جو یمن اور حبشہ کے درمیان بحر احمر کا ایک جزیرہ تھا۔ وہ عین اس رات کو پیدا ہوا جس رات کو حضرت عمر فاروق نے انتقال فرمایا۔ لوگ اس کے بارے میں کہا کرتے تھے: کتنا بڑا حق اٹھ گیا اور کیسا باطل اس کی جگہ آگیا۔“ عمر بن ربیعہ کا ایک شعر یہ ہے :
الا لیت ام الفضل کانت تري نتی هنا او هنا في جنة او جهنم کاش ام الفضل کسی صورت سے بھی میری رفیقہ بن جائے، یہاں یا وہاں۔ جنت میں یا جہنم میں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues