ٹائپ کی چھپائی
الرسالہ، نومبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۳
الرسالة کے پیغام کو پھیلانے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ آپ الرسالة کی ایجنسی قائم کریں اعظم گڑھ (یوپی) میں ابیک ڈگری کالج ہے جس کا نام شبلی نیشنل کالج ہے۔ ملک زادہ منظور احمد یہاں انگریزی زبان کے شعبہ میں لیکچر رہتے تھے۔ رہ ۱۹۵۳ سے 1964 تک یہاں استاد رہے۔ وہ کمیونسٹ تھے دن کو وہ کالج میں انگریزی کی کلاس لیتے اور شام کے وقت شہر کے چوراہہ پر کھڑے ہو کر پارٹی کا اخبار بیچتے۔ سڑک پر ہاتھ میں اخباروں کا بنڈل لئے ہوئے جب وہ کہتے کہ " وہ پارٹی کیوں نہ کامیاب ہوگی جس میں میرے جیسا آدمی اخبار بیچے" تو سننے والوں پر عجیب تاثر ہوتا ۔
اب ایک اور مثال لیجئے۔ چند ماہ پہلے ایک مسلم نوجوان مجھ سے ملے۔ انھوں نے ایک اسلامی اخبار نکالنا شروع کیا تھا۔ اخبار کی پہلی اشاعت پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا: "میری جوتوں کی دکان ہے اور اللہ کے فضل سے کامیاب بھی۔ مگر مجھ کو پسند نہیں آیا کہ میں زندگی بھر چمن سیوک بنا رہوں۔ آدمی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سوسائٹی میں معزز مقام حاصل کرے "
موجودہ زمانہ میں مسلم قوم کے المیہ کی، کم از کم ایک بڑی وجہ وہی ہے جو مذکورہ واقعہ میں نظر آتی ہے۔ ہمارا ہر آدمی "لیڈر" کی سطح پر قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔ ’’ہاکر‘‘ کی سطح پر قوم کی خدمت کرنے سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ مذکورہ مسلم نوجوان نے سادگی میں اپنے دل کی بات کہہ دی۔ مگر یہی سارے لوگوں کا حال ہے۔ الرسالہ جس تعمیری اور اصلاحی مقصد کے تحت نکالا گیا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کی اشاعت زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائے۔ اس سلسلہ میں ہم اپنے مسلم بھائیوں سے مذکورہ کمیونسٹ جیسے تعاون کی امید تو نہیں کر سکتے۔ تاہم اس سے کم تر درجہ کے ایک تعاون کی ہم ان سے اپیل کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہ ہر شخص جو ہم سے ہمدردی یا اتفاق رکھتا ہے، وہ اپنے مقام پر رسالہ کی ایجنسی قائم کرے۔
تجربہ یہ ہے کہ یک وقت سال بھر کا چندہ دینا لوگوں کو مشکل ہوتا ہے۔ مگر پرچہ سامنے ہو تو ایک پرچہ کی قیمت دے کر وہ با آسانی اسے لے لیتے ہیں۔ اس صورت حال میں الرسالہ کی تعمیری اور اصلاحی آواز کو پھیلانے کی بہترین صورت یہ ہے کہ ہر ہر جگہ اس کی ایجنسی قائم کی جائے۔ یہ کم سے کم تعاون ہے جو الرسالہ کے ہمدرد الرسالہ کے خیالات کو عام کرنے کے لئے دے سکتے ہیں۔ ایجنسی لینے والے کے لئے اس کام میں کسی نقصان کا سوال نہیں ہے۔ کیوں کہ شرائط ایجنسی کے مطابق غیر فروخت شدہ پرچے واپس لے لئے جاتے ہیں۔ بہترین عملی صورت یہ ہے کہ کم تعداد سے ایجنسی شروع کی جائے ابتداءََ پانچ یا دس پرچے منگائے جائیں اور پھر حالات کے مطابق بڑھایا جاتا رہے۔ تعاون کی یہ صورت ہلکی بھی ہے اور بے خطر بھی۔ اگر ہمارے ہمدرد اس پر عمل کریں تو چند سال میں اس کے عظیم نتائج نکل سکتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1978 All issues