Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 8

جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۸

جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ بھی قیادت کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔ مسلمانوں کا جھنڈا گر جانے سے انتشار کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اس وقت لشکر اسلام کے ایک سپاہی ثابت بن اقرم نے بڑھ کر جھنڈا اٹھالیا اور بلند آواز سے کہا: ’’مسلمانو! کسی ایک شخص کو امیر بنانے کے اوپر اتفاق کرلو‘‘ مسلمان فوجیوں کی طرف سے آواز آئی، رضینا بک - ہم تمہاری سرداری پر راضی ہیں)، ثابت بن اقرم نے جواب دیا: مانا بفاعل فأتفقوا علی خالد بن الوليد (میں یہ کام نہ کر سکوں گا تم لوگ خالد بن ولید کو اپنا سردار بنا لو) اب آواز بلند ہوئی: ہم کو خالد بن ولید کی سرداری منظور ہے۔ یہ سنتے ہی خالد بن ولید نے آگے بڑھ کر جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور رومی لشکر پر حملہ کر کے اس کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس جنگ میں دو ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ تاہم یہ جنگ فیصلہ کن طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ رومیوں کی مدد سے غسانہ مدینہ پر چڑھ آئیں اور اس نومولود ریاست کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ذی الحجہ ۵ ھ میں بنو قریظہ کے خاتمہ کے بعد جب مدینہ میں بعض معاشی مسائل پیدا ہوئے اور ازواج رسول نے اضافہ نفقہ کا مطالبہ کیا تو آپ کو بہت رنج ہوا اور آپ نے ایک مہینہ تک گھر کے اندر نہ آنے کی قسم کھالی۔ اس سلسلے میں تاریخ میں آتا ہے کہ جب ایک صحابی عمر فاروق سے ملے اور ان سے کہا: ’’کچھ سنا آپ نے‘‘ تو عمر فاروق کی زبان سے فوراً نکلا: ’’کیا غسانہ آگئے‘‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں عیسائیوں کی طرف سے مدینے کے لئے کتنا خطرہ لاحق تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسئلہ کا شدید احساس تھا۔ چنانچہ اپنی عمر کے آخری ایام میں جن امور کے لیے آپ نے شدت سے اہتمام کیا، ان میں غسانہ یا بالفاظ دیگر رومیوں سے مقابلے کے لیے فوج کی تیاری بھی تھی۔ آپ نے اس مقصد کے لیے ایک فوج ترتیب دی۔ اس فوج میں اگر چہ ابو بکر و عمر جیسے بڑے بڑے اصحاب تھے مگر آپ نے انتہائی دانش مندی سے کام لیتے ہوئے اس لشکر کا سردار اسامہ بن زید کو مقرر کیا۔ اسامہ نہ صرف ایک بہادر نوجوان تھے بلکہ ان کے دل میں رومیوں سے انتقام کا شدید جذبہ بھی موجزن تھا۔ کیونکہ موتہ کی جنگ میں رومیوں نے ان کے والد زید بن حارثہ کو قتل کیا تھا۔

تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں لشکر روانہ نہ ہوسکا۔ کیونکہ عین وقت پر آپ پر مرض الموت کا غلبہ ہوگیا۔ آپ کی وفات کے بعد صدیق اکبر نے خلیفہ اول کی حیثیت سے اس لشکر کو شام کی طرف روانہ کیا۔ یہ روانگی بھی اسلامی تاریخ کا حیرت انگیز واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہر طرف سے ارتداد کی خبریں آنے لگیں۔ لوگوں نے خلیفہ اول کو مشورہ دیا کہ اب جبکہ مرکز اسلام خطرہ میں پڑ گیا ہے اور مدینہ پر حملہ کی تیاریاں ہورہی ہیں اس لشکر کی روانگی کو ملتوی کر دیا جائے مگر صدیق اکبر کا یہ جواب لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے کافی تھا : ’’اگر مجھ کو یقین ہو کہ لشکر کی روانگی کے بعد مجھ کو مدینہ میں کوئی درندہ تنہا پا کر پھاڑ ڈالے گا، تب بھی میں اس لشکر کی روانگی کو ملتوی نہیں کر سکتا جس کو خود رسول اللہ نے ترتیب دیا ہو۔ ‘‘ صدیق اکبر کی یہ ایمانی جرات کام آئی۔ اسامہ کا لشکر صرف رومیوں کے مقابلہ میں کامیاب ہوا بلکہ رومی شہنشاہیت کے مقابلہ میں مسلمانوں کی فتح نے مرتدین کی بھی حوصلہ شکنی کی اور

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page