اقدام سے پہلے تحقیق ضروری ہے
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۱۸
اقدام سے پہلے تحقیق ضروری ہے
عثمان بن عفان ی اللہ عنہ ۲۳ھ میں خلیفہ منتخب ہوئے اور ۳۵ھ میں آپ کو شہید کر دیا گیا جب کہ آپ کی عمر ۸۲ سال تھی ۔ امام مسلم عائشہ رض سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے مکان میں لیتے ہوئے تھے ۔ آپ کی پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں ۔ اتنے میں ابو بکر رض آئے ، آپ اسی حال میں لیٹے رہے اور باتیں کیں ۔ پھر عمر رض آئے ۔ آپ بھی اسی طرح لیٹے رہے اور باتیں کیں ۔ اس کے بعد عثمان رض آئے ۔ اب آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے کو ٹھیک کر لیا ۔ جب تینوں چلے گئے تو میں نے عرض کیا ۔ اے خدا کے رسول ! ابو بکر آئے مگر آپ نہیں اٹھے ۔ عمر آئے پھر بھی آپ اسی طرح رہے ۔ مگر عثمان آئے تو آپ اٹھ گئے اور اپنے کپڑے کو درست کر لیا ۔ آپ نے فرمایا عثمان سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ۔ امام ترمذی عبدالرحمن بن خباب رض سے روایت کرتے ہیں کہ میں اس وقت مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب کہ آپ جیش عسره (تبوک) کی تیاری کے لئے لوگوں کو ابھار رہے تھے ۔ عثمان بن عفان کھڑے ہوئے اور کہا: اے خدا کے رسول ، ایک سو اونٹ مع کجاوہ اور پالان کے میں خدا کے راستہ میں دیتا ہوں “ آپ نے پھر لوگوں کو ابھارا ۔ عثمان بن عفان دوبارہ کھڑے ہوئے اور کہا ، ” دو سو اونٹ مع کجاوہ اور پالان کے اللہ کے راستہ میں “ آپ نے پھر لوگوں کو ابھارا۔ عثمان بن عفان تیسری بار کھڑے ہوئے اور کہا ، اے خدا کے رسول تین سو اونٹ مع کجاوہ اور پالان کے اللہ کے راستہ میں “ راوی کہتے ہیں ، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر پڑے ۔ اور آپ کی زبان پر یہ کلمہ جاری تھا :
ما علی عثمان ما عمل بعد هذه ما علی عثمان اس کے بعد عثمان جو بھی کریں ان پر کوئی مواخذہ نہیں ۔ اس کے ما عمل بعد هذه بعد عثمان جو بھی کریں ان پر کوئی مواخذہ نہیں ۔
امام ترمذی انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں ۔ حدیبیہ میں جب بیعت رضوان ہوئی ، اس وقت عثمان بن عفان رسول اللہ کے سفیر کی حیثیت سے مکہ گئے ہوئے تھے ۔ جب تمام لوگ بیعت ہو چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عثمان اس وقت اللہ اور اس کے رسول کے کام پر ہیں ۔ پھر آپ نے اپنے ایک ہاتھ کو اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور خود اپنے ایک ہاتھ سے اپنے دوسرے ہاتھ پر عثمان کے لئے بیعت کی :
فکانت ید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعثمان خیرا پس عثمان کے لئے رسول اللہ کا ہاتھ لوگوں کے لئے ان کے من ایدیهم لا نفسهم اپنے ہاتھ سے بہتر تھا ۔
امام ترمذی مرۃ بن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا حال بیان کیا جو آپ کے بعد آئیں گے ، اتنے میں ایک صاحب سامنے سے گزرے جو کپڑا لپیٹے ہوئے تھے ۔ آپ نے فرمایا : ھذا يومئذ علی الھدی (یہ شخص اس دن حق پر ہوگا) میں اٹھ کر ان کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ وہ عثمان بن عفان ہیں ۔ (ترمذی) حضرت عثمان نے اپنے مال سے مشکل وقتوں میں اتنی زیادہ اسلام کی مدد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues