Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 33

تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ تھا

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۳۳

کی خوش قسمتی تھی کہ ابن اثیر کی زندگی ہی میں وہ سیاسی رکاوٹ ختم ہو گئی اور بعد کے "دفتر" میں وہ اس کو درج کرنے کے لئے زندہ رہا۔ تاتاری حملہ ۶۱۷ھ میں ہوا اور خلیفہ ناصر لدین اللہ کا انتقال ۶۲۲ھ میں ۔ ابن اثیر نے مذکورہ بالا حملے ، ۶۱۷ھ کے حوادث کے ذیل میں لکھے تھے ۔ ناصر لدین اللہ کے انتقال کے بعد جب وہ ۶۲۲ھ کے حوادث کے ذیل میں خلیفہ کے حالات لکھنے بیٹھا تو اس نے اپنی تاریخی کتاب میں حسب ذیل الفاظ ثبت کئے : فصیلہ کے حالات کے دیکھا واسطے اپنی ماریسی صاحب میں ان كان سبب ما ينسيه العجم اليه صحيحا من انه هو الذي اطمع التتار فى البلاد وارسلهم في ذلك فهو الطامة الكبرى التي يصغر عندها كل ذنب عظيم استفاوی واقندار منگان کتاب الرویات الحرایندھقت اگر وہ سبب صحیح ہو جو عجبی لوگ ناصر لدین اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں یعنی وہی تھا جس نے تاتاریوں کو حملہ پر اکسایا اور اس سلسلہ میں ان کے پاس پیغام بھیجا تو وہ ایسی قیامت تھی جس کے آگے ہر بڑا گناہ ہیچ ہے ۔ المختار) اس میں موقع جو ہے ذیل تعلق رکھتا ہے ۔ استافا محمد حافظ رمؤلف كتاب (الدولة الخوارزمية والمغول) نے اس موقع پر حسبِ ذیل تعلیق لﯽ ہے: والظاهر أن ابن الأثير وهو من المعاصرين للغزو المغولى والخليفة الناصر لدين الله لم يجترؤ على المجاهرة باستدعاء الخليفة للمغول ، ولم ينقل ذلك بصراحة ووضوح الاعند ماتوفى الخليفة ذكر هذه الحقيقة في جلاء وجرأة اس کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ ابن اثیر، جو کہ مغلوں کے حملہ اور خلیفہ ناصر لدین اللہ کے ہم زمانہ ہیں۔ خلیفہ کی وفات سے پہلے صراحتاً اس کو کہنے کی جُرأت نہ کر سکے تھے کہ مغلوں کو بلانے والا خود خلیفہ ناصر لدین اللہ تھا۔ اس حقیقت کو انھوں نے خلیفہ کی وفات کے بعد جُرأت اور وضاحت سے بیان کیا ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں ابن اثیر کے قول کو نقل کیا ہے اور اس پر کوئی جرح و تعدیل نہیں کی (جلد ۱۳، صفحہ ۷، ۱۰) ابو الفداء نے اپنی تاریخ میں اس کی تائید کی ہے اور لکھا ہے : ہ ، وقد نسب الی الامام الناصر انہ ھو الذی کتب التتار واطمعہم فی البلاد ليشغل خوارزم شاه من قصد العراق ج ۳ صفحه ۱۳۶ خلیفہ ناصر لدین اللہ کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ وہی ہے جس نے تاتاریوں کو لکھا اور ان کو حملہ کرنے کے لئے اکسایا تا کہ خوارزم شاہ اس کے مقابلہ میں مشغول ہو جائے اور عراق کا قصد نہ کرے خلیفہ ناصر لدین اللہ کی وفات کے تذکرے میں لکھتا ہے وفی خلافته حرب التتار بلاد المشرق حتى وصلوا الی همدان ، وكان هو السبب في ذلك خانه كتب الیہم بالعبور الى البلاد خوفا من السلطان علاء الدين محمد بن خوارزم شاہ، لما هم بالاستیلاء على بغداد ناصرلدین اللہ کی خلافت کے زمانہ میں تاتاریوں نے بلاد اسلامیہ کے مشرقی علاقہ میں غارت گری کی یہاں تک کہ ہمدان تک پہنچ گئے ، اس کا سبب خود یہی خلیفہ تھا، اس نے تاتاریوں کو لکھا کہ وہ بلاد اسلامیہ میں گھس آئیں ۔ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page