Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 43

تاتاری فتنہ اختلافی سیاست کا نتیجہ تھا

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۴۳

وان يجعلها دار مملکته کما کانت السلجوقیة اس نے سلطان علاء الدین محمد بن خوارزم شاہ کے خون سے کیا تھا، کیونکہ وہ بغداد پر قبضہ کا ارادہ کر رہا تھا اور چاہتا تھا کہ اس کو اپنا دارالحکومت بنائے ۔

خلیفہ ناصر لدین اللہ نے تقریباً بہتر برس کی عمر پائی ۔ وہ ۵۷۵ھ میں تخت پر بیٹھا اور ۴۶ سال تک حکمراں رہا آخر عمر میں اس کو شدید قسم کی ہیضش ہوگئی ۔ اس کی بصارت جاتی رہی اور وہ اندھا ہوگیا اور اسی حال میں رمضان ۶۲۲ (۱۲۲۵ء) کی آخری رات کو مرگیا ۔ تاتاری اپنے اس خروج میں پہلے خوارزم شاہ پر حملہ آور ہوئے اور خراسان اور بلاد جبل کو اس کے قبضہ سے چھین لیا ۔ اس کے بعد چنگیز خاں (۶۱۲-۶۶۲ء) کی قیادت میں ارانیہ اور شروان پر قابض ہوگئے ۔ خوارزم شاہ تاتاریوں سے شکست کھا کر طبرستان کے کسی مقام میں چلا گیا اور ۲۱ سالہ حکومت کے بعد ۷۶۱ھ میں فوت ہوگیا ۔ تاتاریوں کا ایک گروہ غزنی، سجستان، کرمان وغیرہ کی طرف نکل گیا ۔ خوارزم شاہ کو شکست دینے کے بعد تاتاریوں نے اس کے بیٹے جلال الدین بن خوارزم شاہ کو غزنی میں شکست دی ۔ چنگیز خاں اس کا تعاقب کرتے ہوئے دریائے سندھ تک چلا گیا۔ جلال الدین دریا ئے سندھ کو عبور کر کے ہندوستان میں داخل ہوگیا۔ چند روز ہندوستان میں رہ کر ۶۲۲ھ میں خوزستان اور عراق کی طرف چلا گیا اور آذر بائیجان اور آرمینیا پر قابض ہوگیا ۔ یہاں تک کہ مظفر کے ہاتھ سے قتل ہوا۔ اس کے بعد تاتاریوں کا ٹڈی دل ناصر لدین اللہ کی مملکت کی طرف بڑھا اور سارے عالم اسلام کو قتل و غارت گری کا قبرستان بنا ڈالا ۔

ناصر لدین اللہ نے خوارزم شاہ کو نیچا دکھانے کے لیے جو تدبیر کی ، وہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے ۔ پہلی جنگ عظیم کے زمانہ میں عربوں نے ترک خلافت کا جو، اپنے سر سے اتار پھینکنے کے لیے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ بنگلہ دیش نے پاکستانی غلبہ کے خلاف اپنی لڑائی میں ایک خارجی ملک کو بہترین مددگار پایا (۱۹۷۰ء) افغانستان میں سردار داؤد خاں کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے وہاں کے لیڈر اشتراکی روس سے مل گئے (۱۹۷۸ء) وغیرہ ۔ اس طرح آج بھی اکثر مسلم ممالک کسی نہ کسی تاتاری فتنے“ کی شکار گاہ بنے ہوئے ہیں ۔ اور ان نئے تاتاریوں کو جو لوگ مسلم ممالک میں داخلہ کا راستہ دے رہے ہیں وہ دوبارہ خود مسلمان میں جو اپنے حریف مسلمان کو شکست دینے کے لیے اغیار کو ان کے اوپر چڑھاتے ہیں ، اس سیاست کا نتیجہ دوبارہ اسی بھیانک صورت میں نکل رہا ہے جو بارھویں صدی عیسوی میں ناصر لدین اللہ کے زمانہ میں نکلا تھا۔ اس قسم کی سیاست میں نہ صرف ملت کے بہترین امکانات برباد ہوتے ہیں بلکہ وہ دونوں فریقوں کے لیے یکساں مہلک ہے جو لوگ اپنے مسلمان بھائی کی ضد میں اغیار کو اپنی صفوں میں داخل کرتے ہیں وہ جب آتے ہیں تو صرف ان کے مفروضہ حریف کو ختم نہیں کرتے ۔ بلکہ بیرونی اندازے کی یہ سیاست بالآخر خود ان کے لیے بھی مہلک ثابت ہوتی ہے ۔ رہ خود بھی بہت جلد اسی تخریبی سیاست کا شکار بن جاتے ہیں جس کا شکار وہ اپنے حریف مسلمان کو بنانا چاہتے تھے ۔ بنگلہ دیش کے شیخ مجیب الرحمن کا قتل (۱۹۷۵ء) اور افغانستان کے کرنل عبدالقادر (۱۹۷۸ء) کی تطہیر (purge) اس کی تازہ مثالیں ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page