Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 35

متحدہ محاذ کی سیاست

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۳۵

متحدہ محاذ کی سیاست

یہ دوسری صدی ہجری کے وسط کا واقعہ ہے۔ لوگ بنی امیہ کے مظالم سے تنگ آچکے تھے اور ہر صبح شام ایک نئی حکومت کے منتظر تھے جس کی ایک روایت کے مطابق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی تھی ۔ دوسری طرف ہاشمی (یا عباسی) خاندان کے کچھ لوگ بنی امیہ کے کھنڈر پر اپنی شاہی عمارت اٹھانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ اس صورت حال نے ایک طرف عوام اور دوسری طرف عباسی حوصلہ مندوں کے لئے ایک مشترک نقطہ فراہم کردیا۔ بنی امیہ کا خاتمہ۔ اگر چہ مظلوم عوام کے لئے اس کا محرک کچھ اور تھا اور عباسی حوصلہ مندوں کے لئے کچھ اور ۔ اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجہ میں ۱۳۲ھ میں خلافت بنو امیہ کا خاتمہ ہو گیا اور سفاح تخت نشین ہوا، جو عباسیوں کا پہلا خلیفہ تھا۔ سفاح کے بعد اس کا بھائی ابو جعفر منصور خلیفہ ہوا۔ ۱۳۶ھ میں اس کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔ بنو امیہ کے آخری زمانہ میں جو لوگ ان کے خلاف تحریک چلا رہے تھے ان میں محمد بن عبداللہ (نفس ذکیہ) اور ان کے بھائی ابراہیم بن عبداللہ خاص طور پر مشہور ہیں۔ یہ لوگ امام حسن ابن علی کی اولاد سے تھے۔ بنو عباس جو نسلی وجوہ سے اپنے آپ کو خلافت کا مستحق سمجھتے تھے اور اموی سلطنت کو ختم کرنا چاہتے تھے ۔ جب انہیں مذکورہ بالا دونوں بھائیوں کی خفیہ تحریک کا علم ہوا تو وہ ان سے مل گئے۔ حتیٰ کہ خود المنصور ( جو بعد کو خلیفہ ہوا) نے نفس زکیہ کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ اموی سلطنت ختم ہوئی اور عباسی سلطنت اس کی جگہ قائم ہو گئی۔ مگر صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ مظالم اور زیادہ بڑھ گئے، حتیٰ کہ شاعر کو کہنا پڑا:

فبهلاً يا بنى العباس مهلا لقد كويت بغد ركما الصدور اے بنی عباس! اپنا ظلم چھوڑ دو تمھاری غداری سے سینے داغدار ہو چکے ہیں ۔

چنانچہ نفس زکیہ اور ان کے بھائی دونوں روپوش ہوگئے اور جو " انقلابی تحریک" پہلے وہ بنی امیہ کے خلاف چلا رہے تھے اس کو اب بنو عباس کے خلاف چلانے لگے۔ یہاں تک کہ موقع پا کر انھوں نے خروج (سلطنت سے بغاوت) کا اعلان کر دیا اور مدینہ میں اپنی آزاد حکومت قائم کر لی ۔ اس کے بعد ان کا جو انجام ہوا وہ یہ کہ نفس زکیہ ۱۴۵ھ میں مارے گئے اور ان اور ان کا سر منصور کے دربار میں پیش کیا گیا۔ وہی منصور جس نے ان کے ہاتھ پر نو جوانی کی عمر میں بیعت کی تھی ۔ عباسی سلطنت کے قیام سے پہلے نفس زکیہ کی تحریک اور عباسی تحریک دونوں کا مشترک دشمن ایک تھا۔ یعنی بنو امیہ ۔ مگر جب عباسی تحریک نے بنوامیہ کی تحریک کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی اور عباسی سلطنت قائم ہو گئی تو اب صورت حال بدل گئی ۔ اب عباسی سلطنت کے لئے نفس زکیہ دشمن کی حیثیت رکھتے تھے۔ کیوں کہ وہ موجودہ عباسی سلطنت سے بھی مطمئن نہیں تھے۔ وہی المنصور جو " انقلاب" سے پہلے نفس زکیہ کا حلیف تھا، اب ان کا دشمن بن گیا۔ اس نے ان کی تحریک کو ختم کرنے میں اتنی سرگرمی دکھائی کہ دو مہینے تک لباس نہیں بدلا اور بستر پر نہیں سویا۔ اس کو اس وقت تک چین نہیں آیا جب تک اس نے اس تحریک کو ختم نہ کر لیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page