Al-Risala · Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 · page 36

متحدہ محاذ کی سیاست

کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۳۶

تاریخ کا یہ تجربہ ایک ہزار سال پہلے پیش آچکا تھا جو بتا رہا تھا کہ مختلف محرکات رکھنے والے لوگ جب کسی مقصد کے لئے متحدہ محاذ بناتے ہیں تو اس کا فائدہ ہمیشہ اس فریق کو حاصل ہوتا ہے جو زیادہ زور آور اور ہوشیار ہو۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس تجربے سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا اور لوگ بار بار اسی ناکام تجربہ کو دہراتے رہے۔ جمال الدین افغانی (۱۸۹۷ء۔ ۱۸۳۸ء) نے مصر میں احیائے ملت کا علم بلند کیا۔ انھوں نے اس مقصد کے لئے قوم پرستوں کی ایک انجمن الحزب الوطنی کے نام سے قائم کی جس کے ممبروں کی تعداد کافی وسیع تھی۔ اس میں شیخ محمد عبدہ، سعد زغلول پاشا، عبداللہ ندیم بے اور احسان بے جیسے ممتاز لوگ شامل تھے، مصر میں جمال الدین افغانی کا اثر ورسوخ اتنا بڑھا کہ وہاں کی با اثر جماعت جمعیت مانوسیہ نے ان کو اپنا صدر نامزد کیا۔ یہاں تک کہ وہ وقت بھی آجا جب جمال الدین افغانی کی انجمن کا ایک خفیہ رکن توفیق پاشا مصر کے تخت حکومت پر تمکن ہو گیا۔ اگر چہ اس کامیابی میں فرانس اور برطانیہ کا زیادہ ہاتھ تھا اس واقعہ کے بعد جمال الدین افغانی اور ان کے قوم پرست، ساتھی بہت خوش ہوئے۔ انھیں نظر آیا کہ ان کی دیرینہ آرزوئیں اور تمنائیں پوری ہو رہی ہیں۔ مگر بہت جلد معلوم ہوا کہ یہ محض سراب تھا۔ توفیق پاشانے تخت پر بیٹھتے ہی جمال الدین افغانی اور ان کے مخصوص خادم ابوتراب کو مصر سے جلاوطنی کا حکم دے دیا۔ توفیق پاشا، سید جمال الدین افغانی کی خفیہ مجلسوں میں شریک ہو چکا تھا، اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ لوگ امپیریلزم کے شدید مخالف ہیں۔ چوں کہ توفیق پاشا کا نہیں امپیریلیٹ طاقتوں (فرانس اور برطانیہ) کی حمایت سے کام کرنا تھا، اس لئے اس نے مصر میں ان کی موجودگی کو حکومت کے لئے ایک خطرہ سمجھا۔ اس نے فوج اور پولیس کی کڑی نگرانی میں جمال الدین افغانی اور ان کے خادم کو سوزنہ بھیج دیا اور وہاں انھیں بحر کشتی پر سوار کر کے روانہ کر دیا گیا۔

عجیب بات ہے کہ صرف نصف صدی بعد اسی حصہ میں ٹھیک اسی غلطی کو دوبارہ اس سے زیادہ بری شکل میں دہرایا گیا۔ ۱۹۵۲ء میں جب مصر میں شاہ فاروق کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اور فوجی افسروں نے ملک میں حکومت قائم کرلی تو ایک صاحب مجھ سے ملے۔ "مولانا ..... مصر جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں" انھوں نے بہت راز دارانہ انداز میں کہا۔

"کیوں خیریت تو ہے"، میں نے پوچھا۔

"یہ جو مصر میں انقلاب ہوا ہے، بظاہر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ فوجی انقلاب ہے، مگر حقیقتاً اخوانی اس انقلاب کے ہیرو ہیں۔ اب مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت ہوگی، مولانا اس لئے جانا چاہتے ہیں کہ اس نازک اور تاریخی موقع پر اخوانی لیڈروں کو نصیحت کریں اور اسلامی نظام کی تعمیر کے لئے انھیں مفید مشورے دیں"۔

یہ واقعہ ہے کہ مصر میں جو فوجی افسران انقلاب لائے تھے ان میں ایسے بھی تھے جن کے اخوان المسلمین سے تعلقات تھے۔ وہ اخوانی تحریک کی تائید کرتے تھے۔ حتیٰ کہ خود جمال عبدالناصر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اخوانیوں کے اجتماعات میں شریک ہوتے تھے۔ موجودہ صدر سادات کا بیان ہے کہ فوجی افسروں کی انقلابی کونسل نے ان کو مامور کیا تھا کہ وہ اخوانیوں سے رابطہ قائم کریں اور انقلابی جد وجہد کے سلسلہ میں ان کی تائید حاصل کریں۔ چنانچہ جس رات کو شاہ فاروق

‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues

Printed page