کلام نبوت
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۲
ثَلَاثَ مَنْ كُنَّ فِيهِ يَسْرُ اللَّهُ لَهُ كَنَفَهُ وَأَدْخَلَهُ جَنَّتَهُ: رِفْقٌ بِالضَّعِيفِ، وَشَفَقَةٌ عَلَى الْوَالِدَيْنِ وَإِحْسَانُ إِلَى الْمَمْلُوكِ (ترندی)
اِيَّاكُم وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ (مشكوة) كَفَى بِالْمَرْءِ كِذْبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ (متفق عليه) مثل المومن ومثل الايمان كمثل الفرس في أحِيَتِه يحول ثم يرجع الى اخيته (بيهقي)
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثُ مِنْ أَخْلَاقِ الْإِيمَانِ مَنْ إِذَا غَضِبَ لَمْ يُخْرِجْهُ حِلْمُهُ غَضَبُهُ فِي باطِلٍ، وَمَنْ إِذَا رَضِيَ لَمْ يُخْرِجْهُ بِرِضَاهُ مِنْ حَقٍّ وَمَنْ إِذَا قَدَرَ لَمْ يَتَعَادِ مَا لَيْسَ لَهُ (المعجم الصغير للطبرانی ص ۳۱)
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ ۔ رواه ابود اؤد مشکوة كتاب الايمان ص)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَخْنُهُ وَلَا يَكْذِبُهُ وَلَا يَظْلِمُهُ إِنَّ أَحْدَكُمُ مِرْآةٌ لِأَخِيهِ فَإِنْ رَأَى أَذًى فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ - (ترمذی بحواله مشکوة ) عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ذَبَّ عَنْ لَحْمِ أَخِيهِ بِالْمَغِيبَةِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعْتِقَهُ مِنَ النَّارِ (بيهقی بحواله مشکوة) تین باتیں جس میں ہوں اللہ اس کی موت کو آسان بنادیتا ہے اور اس کو اپنی جنت میں داخل کرتا ہے، کمزوروں سے نرمی ، ماں باپ سے محبت، خادموں سے اچھا سلوک۔ گمان سے بچو۔ کیونکہ گمان بہت بڑا جھوٹ ہے۔
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ ہر سنی ہوئی بات کو دہرانے لگے۔
مومن اور ایمان کی مثال گھوڑے کی ہے جو کھونٹے سے بندھا ہو-وہ گھومتا ہے پھر اپنے کھونٹے کی طرف لوٹ آتا ہے۔
تین باتیں ایمانی اخلاق میں سے ہیں۔ جب غصہ آئے تو آدمی کا غصہ اس کو باطل میں داخل کر دے۔ جب وہ خوش ہو تو اس کی خوشی اس کو حق سے باہر وہ کر دے۔ جب وہ کسی کے اوپر قدرت پائے تو وہ چیز نہ لے جس پر اس کا حق نہیں ہے۔
جس نے محبت کی تو اللہ کے لئے محبت کی۔ نفرت کی تو اللہ کے لئے نفرت کی۔ دیا تو اللہ کے لئے دیا اور روکا تو اللہ کے لئے روکا، اس نے اپنے ایمان کو کامل کر لیا۔ مسلمان ، مسلمان کا بھائی ہے، وہ اپنے بھائی کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا۔ نہ وہ اس سے جھوٹ نہیں کہتا، نہ اس پر ظلم نہیں کرتا۔ تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کا آئینہ ہے۔ اگر وہ اپنے بھائی میں کوئی عیب دیکھے تو اس کو دور کر دے جس نے اپنے مسلمان بھائی کی طرف سے اس کی غیر موجودگی میں مدافعت کی تو اللہ پر لازم ہے کہ اس کو جہنم کی آگ سے آزاد کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues