متحدہ محاذ کی سیاست
کتابچہ «تاریخ کا سبق»، ۱۹۷۸، صفحہ ۴۲
یہ مہم جاری رکھی۔ نائیجریا کی راجدھانی لاگوس سے لے کر شمال میں لکوشو شہر تک مقابلے جاری تھے۔ تا ہم آخری فیصلہ انگریزوں کے حق میں ہوا۔ انھوں نے 1886 میں سلطان محمد طاہر اور ان کے ساتھیوں کو شکست دے کر نائیجریا پر قبضہ کر لیا۔
احمد و بلبو امھیں رضایات کے درمیان موجودہ صدی کے آغاز میں پیدا ہوئے ۔ ان کے باپ سوکو تو کے امیر قبیلہ تھے۔ ابھی وہ دس سال کے تھے کہ باپ کا انتقال ہو گیا ۔ ان کی ماں ایک دیندار خاتون تھیں ۔ قدیم رواج کے مطابق پہلے انھیں قرآن حفظ کرایا گیا ۔ اس کے بعد انھوں نے عربی مدرسہ میں داخلہ لیا اور ۲۱ سال کی عمر تک دینی تعلیم سے فراغت حاصل کی۔ ۱۹۲۷ء میں مغربی تعلیم کے لئے کاسینا کالج میں داخل ہوئے اور انگریزی زبان اور ریاضیات کی تعلیم مکمل کی۔ خاندانی وراثت کے تحت ان کو سوکو تو کا امیر بنایا گیا۔ ۱۹۳۳ء میں سلطان حسن نے ان کو شہر رہا چ کا گورنر مقرر کیا ۔ ۱۹۳۸ء میں جب سلطان حسن کا انتقال ہوا تو نئے سلطان ابو بکر نے احمد و بلو کو سوکو تو کے "سار و فنا" کے منصب پر سرفراز کیا۔ ۱۹۴۹ء میں انھوں نے لندن کا سفر کیا اور آزادی کے مسائل پر حکومت برطانیہ سے گفتگو کی ۔ ۱۹۳۱ء کی مردم شماری کے مطابق نائیجریا میں ۴,۴ ملین مسلمان ہیں، عیسائی ۹ ملین اور دوسرے قبائل ۱۰ ملین ہیں۔ شمالی نائیجریا میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں اور جنوبی نائیجریا میں زیادہ تر عیسائی۔ احمد بلو شمالی نائیجریا کے لیڈر تھے۔ وہ مغربی استعمار کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہے ۔ ۱۹۶۰ء میں نائیجریا آزاد ہو تو د ایک فیڈرل گورنمنٹ بنی۔ اس حکومت کے فیڈرل پرائم منسٹر سر ابو بکر تفاد اولیوا ( ۱۹۶۶ - ۱۹۱۲) تھے ۔ احمد بلو شمالی نائیجیریا کے وزیر اعظم مقرر ہوئے ۔ یہ ایک مخلوط حکومت تھی جس میں مختلف پارٹیوں کے نمائندے اور مسلمان ، اور عیسائی دونوں شریک تھے ۔ احمد بلو نے مسلمانوں کی اصلاح و تعمیر اور عیسائیوں میں اسلام کی اشاعت کا کام پوری توجہ سے شروع کیا۔ اس کے نتائج بھی نکلنے شروع ہوئے ۔ مگر انھیں زیادہ کام کرنے کا موقع نہیں ملا ۔ ۱۵ جنوری ۱۹۶۶ کو ۲۵ فوجی افسروں نے مل کر بغاوت کر دی ۔ اس بغاوت میں ابو بکر تفاد اولیوا ، احمد بلو اور بہت سے مسلمان اور عیسائی مارے گئے ۔ اس کے بعد نائیجیریا میں فوجی حکومت قائم ہوگئی جس کے سربراہ جنرل ارونسی تھے ۔ مگر انھیں بھی صرف چھ ماہ حکومت کرنے کا موقع ملا ۔ ۲۹ جولائی ۱۹۶۶ کو دوسری فوجی بغاوت ہوئی اور وہ بھی ختم کر دیئے گئے ۔ نائیجیریا میں دو مسئلے ہیں ۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد ستر فی صد ہے ۔ مگر تعلیم ، اقتصادیات اور تنظیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے عملاً اکثر شعبوں پر عیسائی چھائے ہوئے ہیں ۔ ضرورت ہے کہ انھیں تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے بلند کیا جائے تا کہ وہ ملک میں اپنا جائز مقام پا سکیں ۔ دوسرا کام یہاں کے عیسائیوں اور خاص طور پر ملین مشترک نابل میں اسلام کی اشاعت ہے ۔ یہ دونوں کام احمد بلو نے شروع کر دیئے تھے ۔ مگر ان کی شہادت سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ کہ تعمیر و تبلیغ کا کام سیاست کو لے کر نہیں کیا جا سکتا احمد بلو اگر سیاست سے الگ ہو کر یہ کام کر رہے ہوتے تو ۲۰ - ۲۵ برس میں نائیجیریا کی تاریخ بدل دیتے ۔ مگر سیا کے خوار زار نے انھیں بھی ختم کر دیا اور ان کے ملی اور اسلامی کام کو بھی ۔
‹ Previous page Next page › Contents of Booklet Tarikh ka Sabaq, 1978 All issues