Al-Risala · January 1978 · page 7

اسلامی تعلیمات : ایک فکری مطالعہ

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۷

اسلامی تعلیمات : ایک فکری مطالعہ

ایچ۔ اے کریبس(H.A.KREBS) (H. A. KREBS) نے نوبل انعام پانے والوں کے علمی حالات کا مطالعہ کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک سائنس داں کو جو چیز نوبل انعام پانے کے قابل بناتی ہے ، وہ دراصل کسی بڑے سائنس داں کی صحبت ہے۔ یہ بڑا سائنس داں اپنے شاگرد کو معلومات کا ڈھیر یا ساز و سامان کا انبار نہیں دیتا۔ بلکہ ایک سائنسی روح (SCIENTIFIC SPIRIT) اور ذہنی رجحان (ATTITUDE OF MIND) اس کی طرف منتقل کرتا ہے، اس اسپٹ یار رجحان کی روشنی میں وہ اپنا سائنسی عمل جاری رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ اعلیٰ سائنس داں بن کر نوبل انعام پانے کا مستحق بن جاتا ہے۔

یہی بات ، بلا تشبیہ، اسلام کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔ طبیعیات میں مہارت حاصل کرنے کی جو شرط ہے ، وہی الہیات میں گہری معرفت حاصل کرنے کے لئے بھی ضروری ہے۔ اسلام کے ذریعہ انسان کو جو چیز ملتی ہے، وہ قوانینِ ضوابط کے مجموعہ سے زیادہ ایک ذہن اور مزاج ہے۔ یہ ذہن اور مزاج جب کسی کے اندر پیدا ہو جاتا ہے تو وہ زندگی کے تمام رویوں میں ظاہر ہوتا ہے ۔ اور بالآخر اس کو خدا کی اس ابدی جنت تک پہنچا دیتا ہے جو کسی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔

اس سلسلے میں یہاں ہم اسلام کے چند پہلوؤں کا ذکر کریں گے ۔

تصوراتی عبادت

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے جب پہلا انسان بنایا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے آگے جھک جائیں۔ یہ دراصل اس بات کی علامت تھی کہ انسان کو اس کائنات میں برتر مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کو یہ برتری، قرآن کے مطابق، اس لئے حاصل ہے کہ اس کو علم اسماء دیا گیا ہے۔ یعنی وہ اسماء (ناموں) کے ذریعہ مسمیات (چیزوں) کو جانتا ہے، جب کہ فرشتے مسمیات کے ذریعہ مسمیات کو جانتے ہیں۔ (بقرہ - ۳۱) انسان کے اندر یہ مخصوص صلاحیت ہے کہ وہ کسی چیز کو سوچ کر جان لیتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ حسی طور پر اس کی آنکھوں کے سامنے موجود ہو۔ اس کے برعکس فرشتے چیزوں کو اس لئے جانتے ہیں کہ وہ ان کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، انسان کو تصوراتی علم حاصل ہے اور فرشتوں کو مشاہداتی علم۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خدا کو انسان سے کیا مطلوب ہے اور فرشتوں سے کیا مطلوب ۔ انسان سے تصوراتی عبادت مطلوب ہے اور فرشتوں سے مشاہداتی عبادت۔ فرشتے جس خدا کو دیکھ کر اس کی تسبیح و تقدیس کر رہے ہیں، انسان کو اسی خدا کی تسبیح و تقدیس دیکھے بغیر کرنا ہے۔

علم کا آغاز یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو شعور کی اس سطح پر لائے جہاں وہ دیکھے بغیر حقائق کا ادراک کر سکے۔ بہت سے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page