واقعات کیا کہتے ہیں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۸
جاگ اٹھی۔ خون عثمان کے مسئلہ نے ان کا ساتھ دیا اور انھوں نے خلیفہ چہارم کی بیعت میں داخل ہونے سے انکار کر دیا۔ آپ کا پورا زمانہ خلافت (۳۰۔ ۳۵ھ) باہمی خانہ جنگیوں میں گزرا، یہاں تک کہ آپ ایک جنونی مسلمان کے ہاتھ سے شہید کر دیے گئے۔
علی بن ابی طالب کے بعد آپ کے صاحبزادے حسن بن علی کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہوئی۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ صرف عراق اور خراسان (ایران) کی خلافت امام حسن کے حصہ میں آئی تھی۔ بقیہ تمام ممالک یمن، حجاز، شام، فلسطین، مصر وغیرہ معاویہ بن ابی سفیان اموی کے زیر قبضہ تھے جنھوں نے علی کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت نہیں کی تھی اور اب حسن کی خلافت کو تسلیم کرنے سے بھی انھوں نے انکار کر دیا تھا۔ ربیع الاول41 ھ میں صورت حال اس نوبت کو پہنچ چکی تھی کہ ایک طرف امام حسن کے ساتھ چالیس ہزار سے زیادہ مسلح افراد تھے جو موت پر بیعت کئے ہوئے تھے، دوسری طرف امیر معاویہ کے جھنڈے کے نیچے ساٹھ ہزار کا لشکر مرنے مارنے پر تیار تھا۔ امام حسن نے خیال کیا کہ میرے والد کی پانچ سالہ خلافت کے زمانہ میں مسلمان خود اپنے بھائیوں کی تلواروں سے ذبح ہوتے رہے۔ اب اگر میں خلافت پر اصرار کرتا ہوں تو عملاً اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا کہ یہ باہمی قتل و خون مزید نامعلوم مدت تک جاری رہے گا۔ امام حسن اگرچہ حق پر تھے اور وہی ممالک اسلامی کے جائز خلیفہ تھے۔ مگر یہ دیکھ کر کہ فرقہ ثانی منٹنے کے لئے تیار نہیں ہے، وہ خود ہی میدان مقابلہ سے ہٹ گئے اور خلافت کا عہدہ امیر معاویہ کے حوالے کر دیا۔
اس کے بعد ۲۰ سال (۴۰۔ ۶۰ ھ) تک حالات پر سکون رہے، اسلامی قوتیں آپس کی جنگ کے بجائے اسلام کی سرحدوں کو وسیع کرنے میں لگ گئیں۔ امیر معاویہ کے انتقال (رجب ۶۰ ھ) کے بعد خلافت کا مسئلہ دوبارہ زندہ ہوا۔ امام حسین، جو اپنے بڑے بھائی کی دست برداری خلافت سے خوش نہ تھے، انھوں نے امیر معاویہ کے لڑکے یزید بن معاویہ (رم ۶۰ - ۶۴ ھ) کی خلافت کو ماننے سے اسی طرح انکار کر دیا جس طرح اس سے پہلے معاویہ بن ابی سفیان نے ان کے والد علی بن ابی طالب کی خلافت کو ماننے سے انکار کیا تھا۔ یہیں سے امام حسین بن علی (۴۱- ۴۱ ھ) کا وہ کرانہ شردسا ہوتا ہے جس کی یاد ہر سال ۱۰ محرم کو منائی جاتی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ یزید بن معاویہ نے دمشق کے تخت خلافت پر بیٹھنے کے بعد اپنے مدینہ کے والی عتبہ بن ابی سفیان کو لکھا کہ لوگوں سے میرے نام پر بیعت لو۔ ولید نے لوگوں کو جمع کیا تو امام حسین نے فوری طور پر بیعت ہونے سے معذوری ظاہر کی۔ اگلے روز وہ خاموشی کے ساتھ اپنے اہل و عیال کو لے کر مدینہ سے مکہ چلے گئے۔ تاہم مکہ بھی ان کے لئے سکون کی جگہ نہ بن سکا۔ کیونکہ مکہ کے لوگوں نے عبداللہ بن زبیر کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی۔ یہ صورت حال امام حسین پر اس قدر گراں تھی کہ وہ اور ان کے اہل خاندان مکہ میں عبداللہ بن زبیر کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے جو عملاً اس وقت مکہ کے حاکم تھے۔ خون عثمان کے مسئلے نے مکہ اور مدینہ کو خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب کے لئے نامساعد بنا دیا تھا۔ چنانچہ آپ نے مدینہ کو چھوڑ کر کوفہ (عراق) کا قیام اختیار کر لیا تھا۔ اس طرح اسلام کا دارالخلافہ ۴۰ ھ میں مدینہ سے کوفہ منتقل ہوگیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues