واقعات کیا کہتے ہیں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۱۹
امام حسن نے خلافت سے دست برداری (41ھ) کے بعد کوفہ کا قیام ترک کر دیا اور اپنے سابق وطن (مدینہ) کی طرف لوٹ آئے۔ کوفیوں کی نفسیات کے بارے میں عرب شاعر فرزدق نے نہایت صحیح طور پر امام حسین سے مکہا تھا: "اہل کوفہ کے دل آپ کے ساتھ ہیں۔ مگر ان کی تلواریں آپ کی حمایت میں بے نیام نہیں ہو سکتیں "۔ یزید کو جب خلافت کا عہدہ ملا تو اہل کوفہ کی محبت اہل بیت جوش میں آئی۔ انھوں نے امام حسین کو خطوط لکھنے شروع کئے کہ آپ کو فہ آجائیں۔ ہم سب لوگ آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے۔ اس قسم کے تقریباً ڈیڑھ سو خطوط کوفہ سے آکے پہنچے۔
امام حسن صورت حال کی نزاکت کو اچھی طرح جان چکے تھے۔ انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی حسین کو وصیت کردی تھی کہ تم کبھی کوفہ والوں کی باتوں سے فریب مت کھانا۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ نبوت اور خلافت دونوں ہمارے خاندان میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔ اس لئے تمھارے حق میں بہتر یہی ہے کہ تم اس معاملے میں خاموش رہو۔ مگر امام حسین کی حوصلہ مند طبیعت اس قسم کے کسی مشورہ پر راضی نہ ہو سکتی تھی۔ انھوں نے کوفہ جانے کا ارادہ کر لیا۔ انھوں نے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل بن ابی طالب کو بلایا اور ان سے کہا کہ تم پہلے کو فہ جاؤ اور وہاں پوشیدہ طور پر میرے لئے بیعت لو۔ جلدہی میں بھی وہاں پہنچتا ہوں۔ مسلم بن عقیل اس منصوبے سے متفق نہ تھے۔ تاہم امام حسین کے اصرار پر وہ کوفہ کے لئے روانہ ہو گئے۔
مسلم بن عقیل جب امام حسین کے نمائندے کی حیثیت سے کوفہ پہنچے تو وہاں بہت سے لوگوں نے ان کی پذیرائی کی۔ کہا جاتا ہے کہ تقریباً 18ہزار آدمی مبايعۃ ان کے ہاتھ پر بیعت ہو گئے۔ یزید کو جب خبر ہوئی تو اس نے عبید اللہ بن زیاد کو کوفہ والوں کی سرکوبی کے لئے مقرر کیا۔ عبید اللہ بن زیاد بصرہ سے کوفہ پہنچا اور لوگوں کو جمع کر کے انہیں سخت تنبیہ کی۔ اس کے بعد مسلم بن عقیل اور ان کے کوئی میزبان ہانی بن عروہ کو اپنے محل کی چھت پر کھڑا کر کے قتل کرا دیا۔ ان کے کٹے ہوئے سر اور خون آلود جسم ہوا میں لہراتے ہوئے لوگوں کے سامنے زمین پر گرے۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ امام حسین کا ساتھ دینے سے پہلے لوگوں کو سوچ لینا چاہئے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ تمام لوگ خاموش ہو کر اپنے گھروں میں بیٹھ رہے ۔ مکہ میں امام حسین ان تمام واقعات سے بے خبر رہ کر کوفہ جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ عبد اللہ بن عمر، عبد اللہ بن عباس، عمرو بن سعد بن العاص، عبد الرحمن بن حارث اور مکہ کے دوسرے بزرگوں نے امام حسین کو شدت سے منع کیا۔ عبد اللہ بن زبیر نے کہا کہ آپ کو نہ جانے کے بجائے مکہ کی حکومت قبول فرمائیں۔ آپ ہاتھ بڑھائیں۔ میں سب سے پہلے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ مگر وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے۔ عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب نے مدینہ سے خط لکھ کر باصرار منع کیا۔ مگر انھوں نے نہیں مانا۔ حتی کہ انھوں نے عبد اللہ بن عباس کی اس آخری بات کو ماننے سے بھی انکار کر دیا کہ عورتوں اور بچوں کو مکہ میں چھوڑ کر سفر کریں یا کم از کم حج کے بعد روانہ ہوں جس میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں۔ امام حسین ذی الحجہ ۶۰ھ کے پہلے ہفتے میں کوفہ کے لئے روانہ ہوئے تو راستہ میں عبد اللہ بن مطیع سے ملاقات ہوئی ۔ انھوں نے امام حسین سے کہا: " میں آپ کو قسم دلاتا ہوں کہ آپ کہ واپس چلے جائیں ۔ اگر آپ بنو امیہ سے خلافت چھیننے کی کوشش کریں گے تو وہ ضرور آپ کو قتل کر ڈالیں گے۔ اور پھر ہر ایک ہاشمی، ہر ایک عرب اور ہر ایک مسلمان
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues