واقعات کیا کہتے ہیں
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۰
کے قتل پر دلیر ہو جائیں گے مگر امام حسین کی حوصلہ مند طبیعت کے لئے کوئی چیز رکاوٹ نہ بن سکی۔ یزید بن معاویہ اور اس کے والی عراق عبیداللہ بن زیاد کو سب خبریں مل رہی تھیں۔ انھوں نے چھ ہزار کی فوج مختلف مقامات پر لگا دیٹا کہ آپ کو کوفہ میں داخل نہ ہونے دے۔ امام حسین کے ساتھ ابتدا صرف چند سو آدمی تھے۔ جب ان کو یزید کی فوج کی سرگرمیوں کا علم ہوا تو لوگ چھٹنا شروع ہوئے یہاں تک کہ کربلا پہنچتے پہنچتے آپ کے قافلے کی تعداد بہتر رہ گئی۔ صرف اپنے خاندان اور قبیلہ کے لوگ باقی رہ گئے۔
تاہم آخر وقت میں امام حسین کو صورت حال کا اندازہ ہو گیا۔ مسلم بن عقیل کے قتل، کوفیوں کی بے وفائی اور یزید کے لشکر جرار کے مقابلہ میں آپ کا مختصر قافلہ، ان چیزوں نے آپ کی کامیابی کے امکان کو ختم کر دیا تھا۔ آپ نے سمجھ لیا کہ تصادم کا واحد مطلب ہے موت۔ امام حسین ایک انتہائی شریف اور بہادر آدمی تھے۔ جنگ یا موت انھیں خوف زدہ نہیں کر سکتی تھی۔ مگر اپنے ساتھیوں نیز عورتوں اور بچوں کے لئے اپنے دل میں جذبہ رحم کی پیدائش کو روکنا ان کے لئے ممکن نہ تھا۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ آخر وقت میں وہ یزید سے صلح کرنے کے لئے راضی ہوگئے۔ انھوں نے یزید کے والی عبیداللہ بن زیاد کے سامنے تین تجویزیں پیش کیں:
۱۔ میں مکہ واپس چلا جاؤں اور وہاں خاموشی کے ساتھ عبادت الہی میں مصروف ہو جاؤں۔
۲۔ مجھے کسی سرحد کی طرف نکل جانے دو کہ وہاں کفار سے لڑتا ہوا شہید ہو جاؤں۔
۳۔ یزید کے ہاتھ پر بیعت کرلوں۔ (اقوال اضعد بدی فی ید یزید، الطبری، جلد ۴، صفحہ ۳۱۳)
امام حسین کے رویہ میں اس تبدیلی سے یزید کی فوج کے لوگ بہت خوش ہوئے۔ اگرچہ دونوںکر بلا کے میدان میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھے۔ اس کے باوجود ”نواسہ رسول“ کے احترام کا یہ حال تھا کہ دونوں طرف کے لوگ مل کر نمازیں ادا کرتے تھے اور اکثر حسین ہی لوگوں کے امام ہوتے تھے۔ عبیداللہ بن زیاد کے پاس امام حسین کا پیغام پہنچا تو وہ بھی بہت خوش ہوا کہ لڑائی بھڑائی کے بغیر مسئلہ ختم ہو جائے گا اور امام حسین یزید کے ہاتھ پر بیعت کر لیں گے۔ لیکن عبیداللہ بن زیاد کا ایک مشیر شمر ذی الجوشن، جو نہایت بری طبیعت کا آدمی تھا، اس نے عین وقت پر عبید اللہ بن زیاد کے ذہن کو پھیر دیا۔ اس نے سمجھایا کہ امام حسین کے مسئلہ کو آخری طور پر ختم کرنے کے لئے اس سے بہتر موقع دوبارہ نہیں ملے گا۔ عبید اللہ بن زیاد کے حکم پر اس کی فوجوں نے امام حسین کے لئے کوٹنے کے تمام راستے بند کر دیئے۔ وہ جس سمت سے بھی واپس ہونا چاہتے، ادھر ہی ایک فوج ان کا راستہ روکنے کے لئے موجود رہتی۔
۱۰ محرم ۶۱ھ کو یزید کی فوجوں کی طرف سے حملہ کا آغاز ہوا۔ امام حسین کے قافلہ نے نہایت بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ سارے لوگ کٹ گئے اور آخر میں، عورتوں اور بچوں کے علاوہ، صرف امام حسین بچ گئے اس کی وجہ یہ تھی کہ یزید کی فوج کا ہر آدمی آپ پر وار کرنے سے بچتا تھا اور طرح دے جاتا تھا۔ آخر میں وہی شمر ذی الجوشن آگے بڑھا جس نے عبیداللہ بن زیاد کو آپ کے خلاف جنگ کے لئے اکسایا تھا۔ اس نے چند آدمیوں کو لے کر اس بہادر انسان پر قاتلانہ حملہ کیا اور آپ کا کام تمام کر دیا ۔ اس میں اتنا اور اضافہ کر لیجئے کہ شمر ذی الجوشن، امام حسین کا پھوپھا تھا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues