Al-Risala · February 1978 · page 21

سیاسی حریف کا مسئلہ

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۱

لگا تھا اور عمرو بن سعد جس نے امام حسین کے قافلے کی طرف پہلا تیر پھینکا تھا ، امام حسین کا ماموں۔ امام حسین کے معاملہ کی یہ تصویر جو طبری اور تاریخ کی دوسری کتابوں میں ملتی ہے ، وہ اس سے کافی مختلف ہے جو ہمارے شعراء اور مقررین پر جوش الفاظ میں پیش کرتے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امام حسین کا سیاسی اقدام بڑی حد تک ذاتی حوصلہ کے تحت وجود میں آنے والا اقدام تھا۔ اس وقت جو صحابہ کرام زندہ تھے ، وہ سب اس معاملہ میں آپ کے خلاف تھے۔ مکہ اور مدینہ کے بزرگ ان کو اس اقدام سے روک رہے تھے ، حتی کہ خود آپ کے بھی آپ سے اتفاق نہیں کر رہے تھے۔ اس کے باوجود ان کی حوصلہ مند طبیعت کے لئے کوئی چیز رکاوٹ بن سکی۔ تا ہم آخری دنوں میں معاملہ کی نزاکت ان کی سمجھ میں آگئی اور وہ ٹھیک اسی رائے پر پہنچ گئے جہاں ان کے بڑے بھائی امام حسن اپنی دور اندیشی سے ۲۰ سال قبل پہنچے تھے۔ یزید بن معاویہ جواپنے دارالخلافہ دمشق (شام) میں مقیم تھا ، اگر وہ خود کربلا (عراق) کے میدان میں اپنی فوجوں کے ساتھ موجود ہوتا اور حسین و یزید کے درمیان براہ راست گفتگو ہوتی تو اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ وہ امام حسین کی آخری شرط پر راضی ہو جاتا ۔ یزید اس امام حسین کا دشمن تھا جو اس کا سیاسی حریف ہو۔ بیعت خلافت کے بعد امام حسین اس کے لئے ” نواسہ رسول “ ہوتے اور وہ ان کو عزت و احترام کے ساتھ ان کے وطن کی طرف لوٹا دیتا۔ مگر یزید کو امام حسین کی مصالحانہ پیش کش کا علم صرف اس وقت ہوا جب کہ ان کا سر ان کے تن سے جدا کیا جا چکا تھا۔

سیاسی حریف کا مسئلہ

امام حسین نے مقابلہ کے آخری دن (۱۰ محرم ۶۱ ھ) کربلا کے میدان میں یزید کی فوج کے سامنے جو تقریر کی ، وہ فصاحت و بلاغت کا شاہکار ہے ، دیگر باتوں کے علاوہ آپ نے فرمایا : ” عیسیٰ کا گدھا بھی اگر باقی ہوتا تو تمام عیسائی قیامت تک اس کی پرورش کرتے ۔ تم کیسے مسلمان اور کیسے اتنی ہو کہ اپنے رسول کے نواسے کو قتل کرنا چاہتے ہو “ دراصل ” رسول کے گدھے “ کا معاملہ ہوتا تو مسلمان بھی اس کوپوجتے ۔ رسول کے نواسے کا احترام کرنے کے لئے وہ دل و جان سے تیار تھے۔ مگر یہاں مسئلہ یہ تھا کہ رسول کا نواسہ (امام حسین) ان کا سیاسی حریف بن کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اور سیاسی حریف کو کوئی بھی نہیں بخشتا ، خواہ وہ عیسائی ہو یا مسلمان ۔ وہی یزید جس نے ۶۱ ھ میں امام حسین کے استیصال کے لئے ایک ظالم سردار (عبید اللہ بن زیاد) کو مقرر کیا ، اسی نے ۳۴ ھ میں مدینہ پر چڑھائی کے لئے مسلم بن عقبہ کو روانہ کیا تھا تو اس کو تاکیدی حکم دیا کہ حسین کے صاحبزادے علی بن حسین بن علی (۵۹۔ ۳۵ھ) کا پورا خیال رکھنا اور ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچانا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ علی بن حسین (امام زین العابدین) حادثہ کربلا کے بعد سیاست سے الگ ہو کر مدینہ کے نواح میں مقیم ہو گئے تھے۔ اہل مدینہ نے ان کے ہاتھ پر بیعت ہونا چاہا تو انھوں نے بیعت لینے سے صاف انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا: ” میرے باپ اور دادا دونوں خلافت کے معاملے میں اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔ کیا میں بھی اس میں مشغول ہو کر اپنے کو قتل کراؤں‘‘۔ “ کربلا کی جنگ کے خاتمہ کے بعد امام حسین کے بچے ہوئے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page