Al-Risala · February 1978 · page 22

سیاسی حریف کا مسئلہ

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۲

دوسری طرف امام حسن کے بارے میں جو روایات ہیں، وہ نہ صرف سنداً زیادہ قوی ہیں، بلکہ محبت فطری سے آگے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مثلاً انس بن مالک بتاتے ہیں:

حسن بن علی سے زیادہ کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لم يكن احد اشبه بالنبي صلى الله عليه وسلم من الحسن بن علي (رواه البخاري)

مشابہ نہ تھا۔

صوری اور طبعی مشابہت کے علاوہ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ صحیح روایات میں امام حسین کے لئے کسی تاریخی کردار کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ جب کہ دوسری طرف یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسن کے بارے میں ایک عظیم کردار ادا کرنے کی پیشین گوئی فرمائی تھی :

عن ابی بکرة ، قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه ابوبکرہ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر وسلم علی المنبر والحسن ابن علی الی جنبه و هو یقبل دیکھا ہے حسن بن علی آپ کے پہلو میں تھے۔ آپ ایک بار لوگوں علی الناس مرۃ وعلیه أخری۔ و یقول: ان ابنی هذا کی طرف متوجہ ہوتے، دوسری بار ان کی طرف۔ اور فرماتے تھے: سید ، و لعل الله ان یصلح به بين فئتين عظيمتين یہ میرا لڑکا سردار ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے۔ سے من المسلمين (رواه البخاري)

رسول کی یہ پیشین گوئی امام حسن کی زندگی میں حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔ آپ کی بیعت ۴۰ھ میں اس حال میں ہوئی کہ مسلمانوں کی باہمی لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ کچھ لوگ بنو امیہ کے جھنڈے کے نیچے جمع تھے، کچھ بنو ہاشم کے۔ دونوں میں سے کوئی نہ دوسرے کو ختم کر سکتا تھا نہ ہار ماننے کے لئے تیار تھا۔ آپ نے بیعت لی تو آپ نے لوگوں سے یہ اقرار بھی لیا : " میں جس سے جنگ کروں تم اس سے جنگ کرو گے، میں جس سے صلح کروں تم اس سے صلح کرو گے “۔ حضرت علی کی شہادت کے بعد آنجناب کے صاحبزادہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہونا بنوامیہ کے قائد معاویہ بن ابی سفیان کے لئے نئے چیلنج کے ہم معنی تھا۔ وہ اپنے دارالسلطنت دمشق سے ساٹھ ہزار کا لشکر لے کر کوفہ کی جانب روانہ ہوئے جہاں حسن بن علی مقیم تھے۔ امام حسن کوفہ سے نکلے تو آپ کے ساتھ بھی تقریباً اتنی ہی فوجی طاقت تھی۔ ایک مشاہدہ کے الفاظ میں پہاڑ جیسے لشکر (كتائب امثال الجبال) آپ کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ آپ کے والد علی بن ابی طالب کے ہاتھ پر موت کی بیعت کر چکے تھے۔ اور لڑنے مرنے سے کم کسی چیز پر راضی نہ تھے۔

دونوں طرف کے لشکر مدائن کے قریب جمع ہوئے۔ معاویہ بن ابی سفیان نے، امام حسن کے نام پیغام بھیجا کہ جنگ سے بہتر صلح ہے۔ مناسب یہ ہے کہ آپ مجھ کو خلیفہ تسلیم کر کے میرے ہاتھ پر بیعت ہو جائیں۔ امام حسن نے غور و فکر کے بعد اس پیش کش کو منظور کر لیا۔ چھ ماہ خلیفہ رہ کر اس ھ میں امیر معاویہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور خلافت ان کے سپرد کر دی۔ امام حسن کے پرجوش حامیوں کے لئے یہ ذلت “ ناقابل برداشت تھی۔ انھوں نے اس فیصلہ کے خلاف ۵ یہ روایت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مختلف طرق سے نقل ہوئی ہے۔ مثلاً ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں ان ابنی هذا سيد وعسى الله ان يبقيہ حتى يصلح به بين فنتين عظيمتين من المسلمين

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page