سیاسی حریف کا مسئلہ
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۳
بیت شروع فرمل کیا۔ آپ کو عار المسلمین (مسلمانوں کے لیے تنگ) اور مذلّ المومنین (مسلمانوں کو ذلیل کرنے والے) کا خطاب دیا۔ حتی کہ آپ کو کافر بتایا، آپ کے کپڑے نوچے، آپ پر تلوار سے حملہ کیا۔ مگر آپ کسی بھی حال میں مقابلہ آرائی کی سیاست اختیار کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ آپ نے فرمایا:
"خلافت اگر معاو کا حق تھا تو ان کو پہنچ گیا، اگر میرا حق تھا تو میں نے ان کو بخش دیا۔ " صلح کے بعد امیر معاویہ نے امام حسن کے لئے ایک لاکھ درہم سالانہ وظیفہ مقرر کر دیا۔ (حافظ ذہبی، العبر، جلدا، صفحہ ۴) ایک شخص کے پیچھے ہٹ جانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ مسلمانوں کا باہمی اختلاف باہمی اجتماعیت میں تبدیل ہو گیا۔ اسمہ وجہ اسلامی تاریخ میں، صفین و جمل کے بعد، تیسری سب سے بڑی خون ریزی کا عنوان بنتا، عام الجماعت کے نام سے پکارا گیا۔ وہ اختلاف کے بجائے اتحاد کا سال بن گیا۔ مسلمانوں کی قوت جو آپس کی لڑائیوں میں برباد ہوتی، اسلام کی اشاعت و توسیع میں صرف ہونے لگی۔ پیچھے ہٹنا سب سے بڑی بہادری ہے۔ اگر چہ بہت کم لوگ ہیں، جو اس بہادری کے لئے اپنے آپ کو تیار کر سکیں ۔
پیغمبر اسلام کی وفات (11ھ) کے بعد ۲۰ سال تک اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ ہر مہینے کسی نہ کسی بڑے علاقہ کی فتح کی خبر آتی تھی۔ مگر تیسرے خلیفہ کے آخری زمانہ میں جو باہمی لڑائیاں شروع ہو ئیں، انھوں نے تقریباً 10سال تک فتوحات کا سلسلہ ختم کر دیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس بند دروازہ کو جس شخص نے دوبارہ کھولا، وہ امام حسن ہی تھے ۔ ۴۱ھ میں آپ کی خلافت سے دست برداری بظاہر میدان عمل سے واپسی کا ایک فیصلہ تھا۔ مگر حقیقتاً یہ زیادہ بہتر طور پر میدان عمل کی طرف جانا تھا۔ مسلمانوں کی قوت کو باہمی مقابلہ آرائی سے ہٹا کر خارجی میدان میں جدوجہد کی طرف موڑ دینا تھا۔ اس واپسی نے اسلام کی تاریخ میں کامیابی کے نئے امکانات کھول دیے۔ امام حسن اگر خلافت پر اصرار کرتے تو عجب نہیں کہ اسلامی تاریخ پہلی صدی ہجری ہی میں ختم ہو جاتی۔ مسلمان آپس میں لڑ لڑ کر برباد ہوتے رہتے اور قیاصرہ و اکاسرہ اور یہود و منافقین دوبارہ زندہ ہو کر ہمیشہ کے لئے اسلام کا استیصال کر دیتے ۔ تاریخ اسلام کے ہیرو کا انتخاب اگر حسنین میں سے کسی کے لئے کرنا ہو تو بلا شبہ وہ امام حسن ہوں گے۔ پیغمبر کی ہدایات امام حسن کا یہ مسلک کوئی اتفاقی یا طبعی چیز نہ تھا۔ وہ شریعت کی واضح تعلیمات پر مبنی تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے بتا دیا تھا کہ آپ کے بعد مسلمانوں کی سیاست میں بگاڑ آنے والا ہے، چنانچہ آپ نے انتہائی واضح لفظوں میں حکم دیا تھا کہ "اصلاح" کے نام پر تم لوگ آپس میں لڑنے مت لگنا بلکہ اپنی ذاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں مصروف رہنا۔ حدیث کی کتابوں میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے اس قسم کی روایتیں موجود ہیں۔
حضرت حذیفہ کہتے ہیں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگ "خیر" کی بابت پوچھتے تھے۔ میں آپ سے ’’شر‘‘ کی بابت سوال کرتا تھا، اس اندیشہ سے کہ کہیں میں اس میں مبتلا ہو جاؤں۔ میں نے پوچھا، ہم جاہلیت اور شر میں تھے، پھر
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues