Al-Risala · February 1978 · page 35

سیاسی حریف کا مسئلہ

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۵

اللہ نے ہم کو خیر دیا۔ کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہے (فعل بعد طن الخخير من شر) آپ نے فرمایا: ميكون بعدی ائمة لا يهتدون بهدی ولا يستنون میرے بعد ایسے امیر ہوں گے جو میری ہدایت کو نہیں اختیار کریں گے بسنتی۔ وسیقوم فیهم رجال قلوبهم قلوب الشیاطین اور میری سنت پر نہیں چلیں گے۔ ان میں ایسے لوگ اٹھیں گے فی جثمان انس۔ قال حذیفة قلت: كيف اصنع یا رسول جو بظاہر انسان ہوں گے مگر ان کے جسم کے اندر شیطانی دل اللہ ان ادركت ذلك۔ قال: تسمع وتطيع الامير، و ہوں گے۔ حذیفہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا، اے خدا کے رسول ان ضرب ظهرك واخذ مالك، فاسمع واطیع اگر میں اس زمانہ کو پاؤں تو کیا کروں۔ آپ نے فرمایا۔ امیر کی (رواه مسلم) سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ خواہ تمہاری پیٹھ پر مارا جائے اور تمہارا مال چھینا جائے، ہر حال میں سن اور اطاعت کر ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ولا نعمت دانت عاصی علی جزئی شجرة (ور نہ مر جاؤ اس حال میں کہ تم درخت کے ٹینٹھ کو پکڑے ہوئے ہو)

ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ويل للعرب من شر قد اقترب، افلح من كفت خرابی ہے عرب کی اس شر سے جو قریب آ گیا۔ اس میں وہ شخص يده (رواة ابو داؤد) کامیاب رہے گا جس نے اپنے ہاتھ کو روکا۔

ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے فتنے سے ڈرایا۔ لوگوں نے پوچھا: ہم کو آپ کیا حکم دیتے ہیں ۔ (فما تأمرنا)۔ آپ نے فرمایا:

كسروا فيها صيتكم وقطعوا وفيها وتاركم واضربوا اس میں اپنی کمانوں کو توڑ ڈالو۔ اپنی تانت کو کاٹ ڈالو۔ اپنی سيوفكم بالحجارة۔ والزموا فيها اجواف بيوتكم۔ تلواروں کو پتھر پر ٹیک دو۔ اور اپنے گھروں کے اندر بیٹھ رہو۔ فان دخل علی احدکم فلیکن كخير بنی آدم اگر کوئی تم کو مارنے کے لیے تمہارے گھر میں گھس آئے تو تم (رواة ابو داؤد) آدم کے دو لڑکوں میں سے بہتر لڑکے بنو۔ (قتل ہو جاؤ مگر قتل نہ کرو)

یہی ہدایت تھی جس پر خلیفہ سوم عثمان بن عفان نے عمل کیا۔ آپ محرم ۳۵ھ میں خلیفہ منتخب ہوئے اور ذی الحجہ ۳۵ھ میں مسلمان بلوائیوں نے آپ کو شہید کر دیا جب کہ آپ کی عمر ۸۲ سال تھی ۔ اس وقت مدینہ کے وفادار مسلمانوں کی ایک جماعت آپ کے مکان پر موجود تھی اور بلوائیوں کو روکنے کے لئے لڑنے مرنے پر تیار تھی، مگر خلیفہ سوم نے ان کو قسم دلا کر اپنے مسلمان بھائیوں پر حملہ کرنے سے روکا۔ آپ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے قرآن کی تلاوت کرتے رہے، یہاں تک کہ لوگوں نے تلواروں اور نیزوں سے آپ کو قتل کر دیا۔

خلیفہ سوم کا اس طرح خاموشی سے قتل ہو جانا اتفاقا نہیں بلکہ ارادہ تھا۔ یہ اصل شریعت کے حکم کی تعمیل تھی۔ شریعت کے مطابق، اپنی طرف سے مار حریت کا آغاز بندہ مومن کے لئے کسی حال میں جائز نہیں۔ مسلمان دعوت وصیحت

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page