خدائی اور بندگی کی دریافت
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۸
جانوروں کی ساخت ایسی ہے کہ وہ اپنی سونگھنے کی صلاحیت کے ذریعے واقعات کو جانتے ہیں، اگر وہ آنکھ کے ذریعے جانے پر اصرار کریں تو وہ چیزوں سے باخبر نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح انسان کی تخلیق کچھ اس ڈھنگ پر ہوئی ہے کہ وہ گہری باتوں کو اپنے ذہن کے ذریعہ ہی جان سکتا ہے۔ اگر وہ دیکھنے اور چھونے کی حد تک اپنے علم کو محدود کر لے تو وہ تمام اہم باتوں کو جاننے سے محروم رہے گا۔
تصوراتی عبادت کا ایک پہلو اور ہے۔
ایک معمولی آدمی کے مقابلہ میں ایک مشہور قائد کا استقبال کیوں زیادہ ہوتا ہے جب کہ دونوں میں ظاہری طور پر کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی وجہ قائد کی وہ غیر مرئی حیثیت (امیج) ہے جو اس کے اعمال اور اس کی قربانیوں سے اس کی شخصیت کے گرد بنی ہے، یہ امیج محسوس شکل میں دکھائی نہیں دیتی۔ وہ محض تصوراتی چیز ہے۔ مگر یہ تصوراتی حقیقی اتنی اہم ہے کہ ہر جگہ اپنے آپ کو منوا کر رہتی ہے۔ کوئی اس کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔
اسی طرح آدمی کی ایک اور امیج بن رہی ہے۔ یہ اخروی امیج ہے۔ موجودہ دنیا میں ایک شخص کے کارناموں کی امیج اس کے ظاہری پہلو کے اعتبار سے بنتی ہے۔ اگلی دنیا میں اسی کے ساتھ اعمال کے حقیقی اور باطنی پہلو کے اعتبار سے اس کی امیج بن رہی ہے۔ مثلاً ایک قائد ایک عالی شان تقریر کرتا ہے یا ایک انقلابی منصوبہ بناتا ہے۔ اس کے اس عمل کا دنیوی پہلو یہ ہے کہ قائد کو اخبارات کے صفحہ اول پر جگہ مل جائے۔ اس کو ہر طرف اعزازات اور استقبال کے طعنے ملیں۔ مگر جہاں تک اخروی پہلو کا معاملہ ہے، اس کا تعلق آدمی کی نیت سے ہے۔ کوئی شخص اپنی نیت میں جتنا خالص ہوگا، اسی کے بقدر خدا کے یہاں اس کی حیثیت قائم ہوگی اور اس کی اخروی امیج بنے گی۔ دنیوی امیج کا فائدہ دنیا میں مل جاتا ہے، اخروی امیج کا فائدہ مرنے کے بعد سامنے آئے گا۔
تصورات کی دنیا (آئیڈیل ورلڈ) ہماری محسوس دنیا (میٹریل ورلڈ) سے زیادہ حقیقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سے جو عمل مطلوب ہے، وہ بھی اپنی آخری صورت میں تصوراتی ہے۔ ہم اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک تصوراتی (حسیاتی) مخلوق ہیں، اس لئے ہمارا اعلیٰ ترین عمل بھی تصوراتی ہی ہو سکتا ہے۔
خدائی اور بندگی کی دریافت
مومن دراصل وہ ہے جو اس واقعہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ اسرائیل صور لئے کھڑے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کب خدا کا حکم ہو اور پھونک مار کر سارے عالم کو تہ بالا کر دیں۔ کافر اور مومن کا فرق، باعتبارِ حقیقت ۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ کافر دنیا کی سطح پر جیتا ہے اور مومن آخرت کی سطح پر۔ ایک ، ظاہرِ حیات میں گم رہتا ہے ۔ دوسرا ، آخر حیات میں اپنے لئے زندگی کا ساز پال لیتا ہے :
يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ وہ صرف دنیوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں، وہ آخرت الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ (روم - ۷) کی خبر نہیں رکھتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues