بقرہ - ۲۸
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۶
کی راہ سے عمل کرتا ہے نہ کہ قتال کی راہ سے۔ اس کے بعد اگر دوسروں کی طرف سے جارحیت کا آغاز ہو تو دوسری میں۔ جارحیت کا آغاز اگر کفار کی طرف سے ہو تو مخصوص شرائط کے تحت اس کے، دفاع کا حکم ہے (بقرہ - ۔ 190) لیکن جارحیت کا آغاز اگر مسلمان کی طرف سے کیا گیا ہو تو ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ دفاع کے طور پر بھی اپنے دینی بھائی پر وار نہ کیا جائے: لَئِنْ بَسَطْتَ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ اگر تو نے مجھے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں تجھ کو مارنے لِأَقْتُلَكَ کے لئے اپنا ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔
بقرہ - ۲۸
خلیفہ سوم نے اسی دوسرے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنے مسلمان حملہ آوروں سے کوئی مقابلہ نہیں کیا اور خاموشی سے شہید ہوگئے۔ وہ آدم کے دو بیٹوں میں سے بہتر بیٹے بن گئے۔ مگر عجیب بات ہے کہ جس خلیفہ نے اصول شریعت کی اتنی بڑی عملی مثال قائم کی تھی، اس کے خون کا انتقام لینے کے لئے، آپ کے بعد مسلمان پانچ سال (۳۰- ۳۵ھ) تک باہم لڑتے رہے۔ ایک خون عثمان کے نام پر ایک لاکھ مسلمانوں کو خود مسلمانوں کی تلواروں نے ذبح کر دیا ، اس قتل و خون کے باوجود قاتلین عثمان کا مسئلہ خدا کے یہاں فیصلہ ہونے کے لئے باقی رہ گیا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ ہدایات اس اندیشے کی بنا پر دی تھیں کہ آپ کے بعد مسلمانوں کی سیاست میں بگاڑ آئے گا۔ اس وقت لوگوں کا دینی جذبہ " اصلاح سیاست " کے لئے ان کو خروج (بغاوت) پر ابھارے گا ۔ آپ نے لوگوں کو پیشگی طور پر منع فرما دیا کہ اس قسم کی تحریک ہرگز نہ اٹھائیں۔ اپنے حکمرانوں کے ساتھ سرکہ آرائی کرنے کے بجائے ان کو نصیحت کریں ۔ اس سے بھی اصلاح نہ ہو تو خاموشی اختیار کریں اور ان کے حق میں اللہ سے دعا مانگنے پر قناعت کریں۔ اس تاکید کی وجہ یہ تھی کہ ایک قائم شدہ حکومت کے خلاف حق کا جھنڈا لے کر کھڑا ہونا فساد میں مزید اضافہ کے سوا کسی اور نتیجہ تک نہیں پہنچاتا:
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ حضرت جریر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، ثُمَّ حجة الوداع کے دن مجھ سے فرمایا۔ لوگوں کو چپ رکھو ۔ " قَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ پھر فرمایا، میرے بعد کا فر ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے یَضْرِبُ بَعْضُكُمُ (متفق علیہ)
کی گردنیں مارنے لگو۔
انہیں ہدایات کا نتیجہ تھا کہ جنگ صفین (۳۶ھ) کے وقت اصحاب رسول دسیوں ہزار کی تعداد میں موجود تھے۔ مگر مسلمانوں کی اس باہمی لڑائی میں عملاً شریک ہونے والے اصحاب کی تعداد مشکل ۳۰ تھی (ابن تیمیہ، منهاج السنة، جلد " صفحه) حدیث کی کتابوں میں فتنے کے ابواب کے تحت کثرت سے ایسی روایتیں ہیں جو اس کو غیر مستبہ طور پر واضح کر رہی ہیں۔ انھیں واضح ہدایات کی بنا پر بعد کو فقہ میں مسئلہ بنا کہ سلطان منقلب کے خلاف خروج (بغاوت) جائز نہیں۔ سے انفرادی حالات میں اپنا معتین حق محفوظ رکھنے کے لئے اگر ایک مسلمان دوسرے سے مقابلہ کرے، تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہوگا بشرطیکہ یہ اندیشہ نہ ہو کہ اس کے اقدام سے اجتماعی فساد پیدا ہو جائے گا :
عن عبد الله بن عمر و بن العاص ، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من قتل دون ماله فهو شهيد (متفق عليه). ترجمہ : جو شخص اپنے مال کو بچاتے ہوئے مارا جائے، وہ شہید ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues