أقاموافيكم الصلاة
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۷
کیونکہ اس سے امت میں انتشار و باہمی قتل وخون وجود میں آتا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں چند مزید روایتیں بطور نمونہ نقل کی جاتی ہیں ۔ عن عوف بن مالك رضی اللہ عنہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يقول: خيار أئمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم، وتصلون عليهم ويصلون عليكم وشرار أئمتكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم - وتلعنونهم ويلعنونكم قال: قلنا يا رسول الله افلاننا بذهم قال: لا ما (رواه مسلم)
أقاموافيكم الصلاة
عن ابی ھنیدۃ وائل بن حُجر رضی اللہ عنہ قال: سأل سلمة بن يزيد الجعفي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال يا نبي اللہ ارأيت ان قامت علينا أمراء يسألونا حقهم ويمنعونا حقنا فما تأمرنا، فأعرض عنہ - ثم سأله فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسمعوا وأطيعوا فانما عليهم ما حملوا وعليكم ما حُمّلتم (رواه مسلم)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہما ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من كره من اميره شيئا فليصبر فانه من خرج من السلطان شبرا مات ميتة (متفق علیہ)
جاهليةً
عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: انها ستكون بعدی أثرة وأمور تنكرونها - قالوا يا رسول اللہ كيف عوف بن مالک کہتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: تمہارے بہتر امیر وہ ہیں کہ تم ان سے محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں۔ تم ان کے لئے دعا کرو وہ تمہارے لئے دعا کریں۔ اس کے برعکس تمہارے برے امیر وہ ہیں کہ تم ان سے بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں۔ تم ان پر لعنت کرو، وہ تم پر لعنت کریں۔ ہم نے عرض کیا اے خدا کے رسول ہم ان سے کیوں نہ لڑیں۔ آپ نے فرمایا، نہیں، جب تک وہ تم میں نماز قائم رکھیں۔ وائل بن حجر کہتے ہیں کہ سلمہ بن یزید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے خدا کے رسول ، اگر ہمارے حاکم ایسے ہوں جو اپنا حق مانگیں اور ہمارا حق نہ دیں تو آپ ہم کو کیا ہدایت دیتے ہیں آپ نے منہ پھیر لیا۔ انھوں نے دوبارہ پوچھا۔ آپ نے فرمایا، سنو اور اطاعت کرو۔ جو وہ کریں گے اس کے وہ ذمہ دار ہوں گے، جو تم کرو گے، اس کے تم ذمہ دار ہوگے۔ عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اپنے امیر کی کوئی بات ناپسند ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ صبر کرے۔ اگر وہ اس کی اطاعت سے ایک بالشت بھی نکلا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ سے عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میرے بعد خود غرضی اور بے انصافی ہوگی اور ایسی باتیں ہوں گی جن کو تم ناپسند کرو گے۔ لوگوں نے پوچھا اے خدا کے رسول ۔ پھر آپ ۵۰ من خرج من السلطان شبراً أمات ميتة جاهلية اور من شذ شذّ في النار وغيرہ روایات کا تعلق سیاسی شذوذ سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت کے اندر جو سیاسی نظام بالفعل قائم ہو اس کی اطاعت لازم ہے۔ اس سے سیاسی علیحدگی جائز نہیں۔ کیونکہ اس قسم کی علیحدگی ، خواہ وہ اصلاح کے جذبہ سے ہو، صرف بگاڑ میں اضافہ کرتی ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔
ہرٹ ڈنسل“ کی ہلاکت کا سبب بنی ہے۔
اس بات کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues