Al-Risala · February 1978 · page 28

سیاسی منازعت بے فائدہ

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۸

تا امر من اوراق منا دلیت ، قال : تو دون الحق الذي ہم کو کےا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا، تمھارے اوپر جو حق ہے، عليكم وتسألونه الله الذي لكم (متفق عليه) ان کو ادا کردو۔ اللہ تمھارا حق ہے اس کو خدا سے مانگو۔ عن ابی سعید ، قال : قال رسول اللہ علیہ وسلم یوشک ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال عنقریب مسلمان کا سب سے اچھا سرمایہ بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑوں کے اوپر اور بارش کی جگہوں پر چلا جائے، (سیاسی) فتنوں کی وجہ سے وہ اپنے دین کو لے کر بھاگے گا۔

پیغمبر اسلام کا یہ ارشاد کہ تمھارے حکمران جب تک تم کو نماز پڑھنے دیں، ان سے مت لڑو، اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ ان سے کبھی نہ لڑو۔ کیونکہ ایسا کوئی بھی مسلم حکمراں نہیں ہو سکتا جس سے لوگ نماز پر راضی ہو جائیں، پھر بھی وہ ان کی مسجدوں کو ڈھائے اور ان کو رکوع و سجدہ نہ کرنے دے۔ تمام مسلم حکمران جن کو ہم نے ظالم کے کٹہرے میں کھڑا کر رکھا ہے، وہ اسی وقت ظالم بنے جب کہ ان کے اقتدار کو چیلنج کیا گیا۔ اور "ظلم" کی قسم اتنی عام ہے کہ ہر صاحب امر کے یہاں پائی جاتی ہے۔ خواہ وہ سیاسی ادارہ ہو یا غیر سیاسی ادارہ۔ دوسری بات یہ کہ اس ہدایت کا مطلب امت کو ظالم حکمرانوں کی بے زبان رعیت بنانا نہیں ہے۔ بلکہ زیادہ بڑے اور گہرے کام کا راستہ دکھانا ہے۔ یہ امت کے افراد میں منفی ذہنیت کی بجائے مثبت ذہنیت کی پرورش کرتا ہے، اس کی کوششوں کو تخریب سے ہٹا کر تعمیر کی طرف لگانا ہے۔ یہ اس عظیم حقیقت کی نشان دہی ہے کہ زندگی میں براہ راست اقدام سے کہیں زیادہ نتیجہ خیز وہ کام ہیں جو بالواسطہ میدانوں میں کئے جاتے ہیں۔ جو اگر چہ ظاہری دھوم دھام سے خالی ہوتے ہیں۔ تاہم وہ اتنے مؤثر ہوتے ہیں کہ بالآخر حریف کو اس زمین ہی سے محروم کر دیتے ہیں جس پر وہ کھڑا ہوا ہے۔ اللہ سے دعا کرنا ، ایک دوسرے کے لئے محبت اور خیر خواہی کی فضا پیدا کرنا ، دوسروں کے خلاف تحریک اٹھانے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دینا ، اپنی حق تلفی پر قانع رہ کر دوسروں کے حقوق ادا کرنا ، سیاسی محاذ آرائی کا طریقہ چھوڑ کر خاموش تلقین کے ذریعہ انسانی فطرت کو جگانا، بر سر اقتدار افراد سے ٹکرانے کے بجائے عوام میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا، اپنے ممکن دائرہ میں اپنی تعمیری کوششوں کو جاری رکھنا، یہ وہ چیزیں ہیں جو اپنے اندر اتھاہ تسخیری امکانات رکھتی ہیں۔ اور اگر کوئی گروہ صحیح طور پر ان کو اختیار کر لے تو کوئی چیز اس کو کامیابی تک پہنچنے سے روک نہیں سکتی۔

سیاسی منازعت بے فائدہ

پہلی صدی ہجری کا تجربہ آخری طور پر ثابت کر چکا ہے کہ قائم شدہ سیاسی نظام کے خلاف محاذ بنانا، خواہ کتنی ہی نیک نیتی کے ساتھ ہو، صرف بگاڑ میں اضافہ کرتا ہے۔ بلکہ نئے نئے مسئلے پیدا کر کے معاملہ کو اور زیادہ پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ سیاست عثمانی کی اصلاح کی تحریک نے قبیلہ قریش کی دو شاخوں، بنوامیہ اور بنو ہاشم، کے قدیم خاندانی جھگڑے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page