Al-Risala · February 1978 · page 29

سیاسی منازعت بے فائدہ

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۹

کوئی شدید تر شکل میں زندہ کر دیا۔ اس نے نو مسلم یہودی عبداللہ بن سبا کو وہ موافق زمین دی جس سے فائدہ اٹھا کر اس نے ”وصی“ کا عقیدہ ایجاد کیا اور استحقاق خلاف کے سیاسی مسئلہ کو اعتقاد کا مسئلہ بنا ڈالا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان دائمی طور پر دو ممتحارب فرقوں (شیعہ اور سنی) میں تقسیم ہو گئے۔ دبی ہوئی عصبیتوں کو موقع ملا کہ وہ ”نظریاتی“ نعروں کے سایہ میں ایک دوسرے کے خلاف اٹھ سکیں۔ عربی لوگ، جو عجمیوں کو حقیر سمجھتے تھے، امیر معاویہ کے جھنڈے کے نیچے اکٹھا ہو گئے۔ عجمی لوگ، جو عرب اقتدار سے متنفر تھے، علی بن ابی طالب کے لشکر میں جمع ہو گئے۔ اصلاحِ سیاست کی تحریک صرف فسادِ سیاست پر منتج ہوئی۔ اس نے سارے ممالک اسلامی میں انارکی پیدا کر کے خلیفہ سوم کو شہید کر دیا۔ مگر صرف آپ کے قتل پر معاملہ ختم نہیں ہو سکتا تھا۔ اب عمل اور ردعمل کالامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا جو امیر معاویہ کی خلافت کے ایک عارضی وقفہ (۴۰ - ۴۱ ھ) کو چھوڑ کر سیکڑوں برس تک جاری رہا۔ لاکھوں قیمتی جانیں انتہائی بے دردی کے ساتھ ہلاک کر دی گئیں۔ اور اصل مسئلہ (خلافت میں پھڑکی، اصلاح یا خونِ عثمان کا قصاص) پھر بھی وہیں ہونے کے لیے باقی رہ گیا جہاں تمام مسائل کو بالآخر حل ہونا ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ حکومت کے لئے جو جنگ شروع کی جائے، اس کا خاتمہ نہ کامیابی پر ہوتا ہے اور نہ ناکامی پر۔ جماعت الف اور جماعت ب کی جنگ ختم ہوگی تو خود اس جماعت میں دو گروہ ہو جائیں گے جو جیت کر اوپر آئی ہے۔ بنو ہاشم اور بنو امیہ میں حصول خلافت کی جنگ ۳۵ ھ میں شروع ہوئی اور تقریباً ایک سو سال تک مختلف شکلوں میں جاری رہی۔ اس پوری مدت میں بنو امیہ کا اقتدار قائم رہا۔ ۱۳۲ ھ میں بنو ہاشم (بنوباس) ایرانوی کی مدد سے بنو امیہ کا اقتدار ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ مگر اب بنو ہاشم، عباسیوں اور علویوں میں تقسیم ہو کر خود ہی ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگے۔ محمد بن عبداللہ بن حسن مثنی بن حسن بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب جو محمد مہدی نفس ذکیہ (م ۱۴۵ ھ) کے نام سے مشہور ہوئے، عباسی خلیفہ ابو جعفر عبداللہ منصور بن محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب کے سیاسی حریف تھے۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں کو لے کر ابو جعفر منصور (م ۱۵۸-۱۰۱ھ) کے خلافت ”صالح نظام“ کی تحریک چلائی۔ اس مقابلہ میں منصور کامیاب ہوا اور اس نے علویوں کو کچل ڈالا۔ یہ دونوں ہاشمی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ابو طالب بن عبد المطلب کی اولاد تھا، دوسرا عباس بن عبد المطلب کی اولاد۔ جب تک بنو امیہ کو اقتدار سے ہٹانے کا سوال تھا دونوں متحدہ سیاسی محاذ بنائے ہوئے تھے۔ مگر جب حکومت بدلی تو دونوں ایک دوسرے کے رقیب بن گئے۔ یہ رقابت اس وقت تک ختم نہ ہوئی جب تک ایک نے دوسرے کو پیس نہ ڈالا۔

شہادت عثمان کے بعد دلالام المومنین عائشہ رهم (م ۵۸ھ) قاتلین عثمان کو سزا دلانے کا مطالبہ لے کر اٹھیں۔ زبیر بن العوام، طلحہ بن زہراور دوسرے بہت سے لوگ ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔ اس تحریک نے مسلمانوں کو دو تحارب گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ عائشہ کے جھنڈے کے نیچے ۳۰ ہزار آدمی تھے اور علی بن ابی طالب کے ساتھ ۲۰ ہزار۔ بصرہ کے قریب مقابلہ ہوا جو جنگ جمل (۳۶ ھ) کے نام سے مشہور ہے۔ اس مقابلہ میں ہزار مسلمان خود مسلمانوں کی تلوار سے ذبح ہو گئے۔ طلحہ اور زبیربھی جنگ سے واپس ہوتے ہوئے راستہ میں ختم ہو گئے۔ طلحہ زخم کے سبب سے۔ اور زبیر کو

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page