Al-Risala · February 1978 · page 48

سیاسی منازعت بے فائدہ

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۸

مقام وادی السباع میں ایک شخص نے حالت نماز میں مار ڈالا۔

اس کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ معاویہ بن ابی سفیان، جو اس وقت شام کے والی تھے، انہوں نے اس تحریک کا جھنڈا سنبھال لیا۔ علی بن ابی طالب کی طرف سے مطالبہ بیعت تھا، معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے مطالبۂ قصاص۔ دوبارہ شام میں صفین کے مقام پر شدید تر مقابلہ (۳ھ) ہوا۔ تقریبا ۷۰ ہزار مسلمانوں کی گردنیں خود مسلمانوں کے ہاتھوں کاٹ ڈالی گئیں۔ اس عظیم ہلاکت کے باوجود مسئلہ حل نہ ہوا تو تحکیم (دودمتہ الجندل) کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ تاہم اصل مسئلہ دوبارہ بدستور اپنی جگہ باقی رہا۔ البتہ عمرو بن العاص نے اس موقع پر جو کردار ادا کیا، اس کی وجہ سے مزید نقصان یہ ہوا کہ جان کے قتل کے ساتھ اعتماد کے قتل کی روایات بھی مسلم معاشرہ میں قائم ہوگئیں۔ یہی بے اعتمادی کی فضا تھی جس نے خارجی فرقہ کو پیدا کیا، جس نے مقام نہروان (37ھ) پر علی بن ابی طالب سے مقابلہ کیا اور تقریباً ۱۰ ہزار مسلمان مارے گئے۔ ان کی بے اعتمادی یہاں تک بڑھی کہ انہوں نے امیر معاویہ، عمرو بن العاص، اور علی بن ابی طالب کو یکساں طور پر گردن زدنی قرار دے دیا ۔ ۷ خون عثمان کے نام پر پانچ سال سال(35-40ھ) کی خانہ جنگی اور بے حساب نقصانات کے بعد عملاً جو ہوا، وہ یہ کہ امیر معاویہ کی سیاست مستحکم ہوگئی۔ بیشتر مسلم ممالک، یمن، حجاز، شام، فلسطین، مصر سب امیر معاویہ کے زیر حکم آگئے۔ علی بن ابی طالب کی حکومت عراق اور ایران تک محدود ہوگئی۔ علی بن ابی طالب کی شہادت (۴۰ھ) کے بعد امام حسن کی خلافت سے دست برداری نے ان کی مزید مدد کی اور ۲۰ سال (۴۰۔ ۶۰ھ) تک وہ پوری اسلامی دنیا پر بلا نزاع حکومت کرتے رہے۔

امیر معاویہ کے بعد مسئلہ دوبارہ جاگ اٹھا۔ امیر معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا تھا اور اس کی خلافت سے ۷ صحابہ کے باہمی اختلاف کو آج کل کے لوگوں کے اختلافات پر قیاس نہیں کرنا چاہئے یہ بہت اونچے لوگوں کا اختلاف تھا جو اختلافات کے وقت بھی اپنی اونچائی کو باقی رکھتے ہیں۔

اسحٰق بن راہویہ اپنی سند سے روایت کرتے ہیں :

سمع علی يوم الجمل ويوم الصفين در جلا يعنواني القول، علی نے جنگ جمل وصفین کے بارے میں ایک شخص کو سنا کہ وہ سخت باتیں کر رہا ہے، آپ نے فرمایا، کلمہ خیر کے سوا اور کچھ نہ کہو۔

در اصل انھوں نے سمجھا ہے کہ ہم نے ان کے خلاف بغاوت کی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے۔

اس بنا پر ہم ان سے لڑ رہے ہیں۔

فقال لا تقولوا الاخير ا۔ انما هم قوم زعموا انا بغينا عليهم، وزعمنا انهم بغوا علينا فقاتلنا هم ابن تیمیه، منهاج السنة، جلد ۳ ، صفحه ۶۱ زبیر بن العوام جنگ جمل میں حضرت علی کے خلاف تھے۔ جنگ میں حضرت علی کو فتح ہوئی۔ حضرت زبیر اپنے گھوڑے کا منھ پھیر کر چل دیے۔ عمرو کے ایک شخص نے ان کا پیچھا کیا اور روادی السباع میں ان کو حالت نماز میں مار ڈالا۔ اس کے بعد وہ حضرت علی کے پاس ان کی تلوارلے کر پہنچا اور دربان سے کہا کہ زبیر کے قاتل کے لئے اجازت حاصل کر۔ وہ سمجھتا تھا کہ علی اپنے حریف کے قتل کو سن کر خوش ہوں گے اور اس انعام دیں گے۔ مگر آپ نے فرمایا : ابن صفیہ (زبیر) کے قاتل کو دوزخ کی خوش خبری سنا دو۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page