سیاسی منازعت بے فائدہ
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۱
لے لیے بیعت لی تھی۔ لوگوں میں یہ احساس دبا ہوا تھا کہ امیر معاویہ نے انتخاب خلافت کے مسئلہ کو غیر شورائی طریقہ پر کر کے غلطی کی ہے۔ یزید کے مسند خلافت پر بیٹھنے کے بعد کچھ لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ یزید اس منصب کا اہل نہیں ہے۔ مسلم معاشرہ میں اس وقت عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن زبیر، حسین بن علی اور عبد الرحمن بن ابی بکر جیسے جلیل القدر لوگ موجود تھے۔ چنانچہ ایک طبقہ نے یزید کی خلافت پر بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نئی تحریک کے دو خاص قائد تھے۔ ایک عبداللہ بن زبیر، دوسرے حسین بن علی۔
تاہم صحابہ کرام کی اکثریت اس معاملہ میں یا تو خاموش تھی یا لوگوں کو یہ نصیحت کر رہی تھی کہ یزید کی خلافت کو تسلیم کرلو تاکہ مزید قتل و خون نہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن عباس مکہ میں تھے کہ امیر معاویہ کی موت کی خبر آئی۔ لوگ ان کا تاثر جاننے کے لیے ان کے پاس جمع ہوگئے ۔ اس موقع پر آپ نے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی :
وان ابنه يزيد لمن صالحي اهله فالزموا مجالسكم معاویہ کا لڑکا یزید ان کے لائق اہل خانہ میں سے ہے۔ لہٰذا تم لوگ اپنی جگہ بیٹھے رہو اور اپنی اطاعت و بیعت اس دادعطوا طاعتكم وببيعتكم بلاذری، انساب الاشراف، جلد ششم، ۱۹۷۸ء، صفحہ ۷۲ کو دے دو اسی طرح محمد بن حنفیہ نے یزید کے حق میں کلمہ خیر کہہ کر لوگوں کو اس کی بغاوت سے روکا۔ حمید بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ یزید کی ولی عہدی کے وقت میں حضرت بشیر کے پاس گیا جو صحابہ میں سے تھے۔ انھوں نے فرمایا : يقولون انما يزيد ليس بخير امة محمد صلى الله لوگ کہتے ہیں کہ یزید امت محمد میں سب سے بہتر نہیں ہے۔ علیہ وسلم وانا اقول ذلك - ولكن لان يجمع الله میں بھی یہی کہتا ہوں ۔ لیکن امت محمد کا اتحاد مجھے اس کے اختلاف کی نسبت زیادہ پسند ہے ۔
امة محمد احب الى من ان يفترق الذہبی، تاریخ الاسلام ، جلد ۲، صفحہ ۹۸ یہ نقطہ نظر دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس واضح ہدایت پر مبنی تھا کہ حکمرانوں سے سیاسی منازعت مت کرو۔ اور اپنے اصلاحی جذبہ کے اظہار کے لیے عمل کا دوسرا (غیر سیاسی) میدان تلاش کرو۔ مگر تعمیری نقطہ نظر ، سیاسی نقطہ نظر کے مقابلہ میں، ہمیشہ کم لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔ بیشتر لوگ سیاسی معرکہ آرائی کی راہ پر چل پڑے اور نتیجہ میں امام حسین اور عبداللہ بن زبیر جیسے اعلیٰ صلاحیتوں کے انسان اور ان کے ساتھ بے شمار دوسرے مسلمان خود اپنے بھائیوں کی تلواروں سے ذبح ہو گئے۔ یزید کو جب معلوم ہوا کہ مکہ اور مدینہ کے لوگ باغی ہو گئے ہیں تو اس نے حرمین پر بھی حملے کرائے۔ خانہ کعبہ کی دیواریں ڈھائی گئیں ـــــ ان تمام قربانیوں کے باوجود اصل مسئلہ بدستور اپنی جگہ باقی رہا۔ یزید کی حکومت کو موت کے فرشتہ کے سوا کوئی ختم نہ کر سکا۔
پہلی صدی ہجری کی ان خانہ جنگیوں کا ایک نقصان یہ ہوا کہ بڑے بڑے صحابہ جو رستم واسفندیار کو زیر کرتے ہوئے سیلاب کی طرح اسلام کو آگے بڑھارہے تھے، وہ اجتماعی زندگی سے الگ ہو گئے۔ سعد بن ابی وقاص فاتح ایران شہروں سے دور چلے گئے جہاں وہ اونٹ اور بکریاں چراتے رہتے تھے۔ عبداللہ بن عمر جو اپنی خصوصیات کی بنا پر عمر ثانی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues