یزید کی ولی عہدی
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۲
بن سکتے تھے، باہمی جھگڑوں سے دل برداشتہ ہو کر گوشہ گیر ہوگئے، وغیرہ وغیرہ۔ تاہم میدانِ جنگ سے ان حضرات کی واپسی محض منفی نوعیت کی نہ تھی۔ اس کا ایک مثبت پہلو بھی تھا۔ اب وہ تعلیم و ارشاد کی سرگرمیوں میں لگ گئے۔ احادیث کی روایت کرنا، شریعتِ اسلام کی حقیقت سمجھانا اور سیرتِ نبوی سے لوگوں کو آگاہ کرنا اب ان کا مشغلہ تھا۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ حدیث اور سیرت اور اسلامی تاریخ کا ذخیرہ جمع ہوا۔ میدانِ جنگ میں کارنامہ دکھانے والوں نے میدانِ درس میں اپنے لئے اسلامی خدمت کا کام تلاش کر لیا۔
یزید کی ولی عہدی
معاویہ بن ابی سفیان کا اپنے بیٹے یزید بن معاویہ کو اپنا ولی عہد مقرر کرنا زبردست اختلافی مسئلہ رہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس تقرر نے اسلامی تاریخ میں صرف المیے کا اضافہ کیا ہے۔ تاہم محتاط مبصرین کی رائے ہے کہ معاویہ اپنے تقرر میں نیک نیت تھے۔ وہ دیانت داری کے ساتھ سمجھتے تھے کہ یزید تمام ممالکِ اسلامی میں خلافت کے لئے سب سے زیادہ اہل ہے۔ ابن خلدون کے نزدیک "معاویہ کے دل میں دوسروں کو چھوڑ کر اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد بنانے کا جو داعیہ پیدا ہوا ، اس کی وجہ امت کے اتحاد و اتفاق کی مصلحت تھی"۔ عبداللہ بن عمرؓ نے جب اس تقرر پر اعتراض کیا تو معاویہ کا جواب یہ تھا :
انی خفت ان اذر الرعیة من بعدی کا غنم مجھے خوف ہوا کہ میں عوام کو بکریوں کے منتشر گلہ کی طرح المطيرة ليس لها راع چھوڑ کر نہ چلا جاؤں جس کا کوئی چرواہا نہ ہو۔
(البدایہ والنہایہ لابن کثیر جلد ۸ صفحه ۸۰)
اس طرح کی متعدد روایتیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ معاویہ اپنے انتخاب میں مخلص تھے۔ حتیٰ کہ نقل کیا گیا ہے کہ جمعہ کے دن مسجد کے منبر پر کھڑے ہو کر انھوں نے دعا کی :
اللهم ان كنت عهدت لیزید لما رأیت من فضله اے اللہ اگر میں نے یزید کو اس کی فضیلت دیکھ کر ولی عہد نہ جہاں تک حاکم اپنی ذمہ داری کا تعلق ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت سخت تنبیہات منقول ہیں: مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي وَلِي مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئاً لَمْ يَحْفَظْهُمْ بِمَا يَحْفَظُ بِهِ نَفْسَهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا لَمْ يَجِدُ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ۔ (المعجم الصغیر للطبرانی) میری امت میں جو کوئی بھی مسلمانوں کے معاملہ کا ذمہ دار ہو پھر وہ اس طرح ان کی حفاظت نہ کرے جس طرح وہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتا ہے تو وہ بہشت کی مہک بھی نہ پائے گا۔
یہ حکم امیر کے لئے ہے۔ مگر جہاں تک مامور کا تعلق ہے، اس کا فرض یہی ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے امیر کی اطاعت کرے خواہ امیر اس کو پسند ہو یا ناپسند۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : الجهاد واجب عليكم مع كل امير برّاً كان او فاجرا و ان عمل الكبائر (ابو داؤد، مشکوٰة باب الامامة) امیر اچھا ہو یا برا، اور خواہ وہ کبائر کا ارتکاب کرتا ہو۔ اس کے تحت جہاد کرنا مسلمانوں کے اوپر فرض ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حکومتی ادارہ کی اصلاح کے نام پر محاذ نہ بناؤ۔ اس سے باہر دین کی اشاعت و تبلیغ کے جو مواقع ہیں، ان پر اپنی قوتیں صرف کرو۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues