یزید کی ولی عہدی
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۳
فبلغہ ما املت و اعنہ، فان كنت انما حملنی بنایا ہے تو اسے اس مقام تک پہنچا دے جس کی میں نے اس حب الوالد ولد لہا و انہ لیس لما صنعت بہ کے لئے امید کی ہے۔ اور اس کی مدد فرما۔ اور اگر مجھے اس اهلا فاقبضه قبل ان يبلغ ذلك کام پر صرف اس محبت نے آمادہ کرلیا ہے جو باپ کو اپنے بیٹے الذهبی، تاریخ الاسلام و طبقات المشاہیر دار الاعلام سے ہوتی ہے تو اس کے خلافت تک پہنچنے سے پہلے اس کی جلد ۲ صفحه ۲۷۴ روح کو قبض کرلے۔
تاہم یہ سوال باقی ہے ایک ایسے شخص کو ممالک اسلامی کی خلافت کے لئے نامزد کرنے پر وہ کیسے مطمئن ہو گئے جس کے بارے میں اصحاب رسول میں سے صرف ایک بزرگ (مغیرہ بن شعبہ) کی حمایت انھیں حاصل تھی، بقیہ اصحاب، جو اس وقت ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے، یا تو اس تقرر کے خلاف تھے یا افتراق امت سے بچنے کے لئے انھوں نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔ نیز یہ کہ خود معاویہ بن ابی سفیان مسلمہ طور پر ایک انتہائی دور اندیش آدمی تھے۔ عفر فاروق رضہ کے الفاظ میں، وہ غصہ کے وقت مٹنے والے (من يضحك فی الغضب) آدمی تھے۔ ٹھنڈے ذہن کے تحت فیصلہ کرنے کی صلاحیت ان میں حیرت انگیز حد تک پائی جاتی تھی۔ ایسے ایک مدبر نے ایک ایسی رائے کی صحت پر کیسے یقین کر لیا جس کی صحت و اصابت کی تصدیق بعد کی تاریخ نے نہیں کی۔
یہاں ایک اور بات بھی قابل لحاظ ہے۔ 41 ھ میں جب حسن بن علی نے ایک عظیم سیاسی نزاع کو ختم کیا اور معاویہ کے حق میں خلافت سے دست برداری اختیار کر لی تو، اگرچہ امام حسن کی فرمائش کے طور پر نہیں تاہم بطور خود، امیر معاویہ نے عبداللہ بن عامر کے سامنے زبانی طور پر یہ اقرار کیا تھا کہ ان کے بعد امام حسن خلیفہ ہوں گے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں: كان معاوية لما صالح الحسن عهد بالحمر جب معاویہ نے حسن سے صلح کی تو حسن کو اپنے بعد خلافت من بعدہ فلها مات الحسن قوی امر یزید عندہ کا ولی عہد بنانا منظور کر لیا تھا۔ مگر جب حسن کی وفات ہو گئی معاوية و رای انہ لن ذلك اهلا تو یزید کی طرف معاویہ کا رجحان قوی ہو گیا۔ انھوں نے سمجھا کہ (البدایہ والنہایہ، جلد ۸ صفحه ۸۰) وہ خلافت کا اہل ہے۔
حسن بن علی نے معاویہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو کر جو بے مثال قربانی دی تھی، اس کا یہ صرف ایک ادنیٰ صلہ تھا کہ وہ ان کے لائق بھائی حسین بن علی کے حق میں وعدہ ولی عہدی کو پورا کر دیتے۔ مگر یہ بات بھی معاویہ کے ذہن میں جگہ نہ پا سکی۔ اور انھوں نے پورے اصرار اور اہتمام کے ساتھ اپنے بیٹے یزید کو خلافت کے منصب کے لئے نامزد کر دیا اور اس کے لئے لوگوں سے بیعت لی۔
جہاں تک یزید کی نااہلی کا سوال ہے، اس کو ثابت کرنے کے لئے یہ واقعہ کافی ہے کہ اس کے عہد حکومت میں حسین بن علی کو قتل کیا گیا۔ یہ نہ صرف ایک ظالمانہ فعل تھا، بلکہ سیاسی اعتبار سے مکمل طور پر ایک غیر مدبرانہ اقدام تھا کہ یزید کو ایک عظیم مملکت کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے جاننا چاہئے تھا کہ رسول کے نواسے کو قتل کرنا لازماً شاپر عمل پیدا کرے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حتی کہ اس سے نمٹنے کے لئے اس کو مکہ اور مدینہ پر حملہ کرنا پڑا جس میں حسین کے تقریباً دو ہزار مسلمان
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues