یزید کی ولی عہدی
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۳
مارے گئے، حسین کے خون کے بعد عامۃ المسلمین کے خون کو حلال کرنا بھی اس کے لئے ضروری ہو گیا۔ دوسری بات جس سے یزید مکمل طور پر بے خبر رہا، وہ یہ کہ ایک شریف انسان سے مصالحت کا امکان آخر وقت تک ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حسین نے اگرچہ مکہ سے نکلنے کے معاملے میں اپنے بزرگوں اور دوستوں کے اختلاف کو نظر انداز کر دیا تھا۔ وہ یزید کو اس کے آخری انجام تک پہنچانے سے کسی بات پر راضی نہ تھے۔ تاہم کربلا پہنچ کر جب انہیں معلوم ہوا کہ کوفہ والوں کے بھی خطوط پر انہوں نے اس حد تک بھروسہ کر لیا تھا کہ اپنے اہل و عیال سمیت گھر سے نکل پڑے تھے وہ محض دھوکا تھے۔ تو امام حسین نے طے کر لیا کہ سیاست کو یزید کے حوالے کرکے خاموش زندگی پر قانع ہو جائیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یزید و حسین کا قضیہ، کم از کم اپنے آخری مرحلہ میں، ٹھیک اسی نقطہ پر پہنچ چکا تھا جہاں معاویہ و حسن کا قضیہ پہنچا تھا۔ مگر معاویہ ایک جہاں دیدہ آدمی تھے۔ انھوں نے سادہ کاغذ پر اپنا دستخط اور مہر ثبت کرکے حسن بن علی کے پاس بھیج دیا کہ صلح کی جو شرا ئط چاہو اس پر لکھ دو۔ اس کے برعکس حسین بن علی کی اسی قسم کی پیش کش پر یزید کے آدمیوں نے حسین کو قتل کر دیا۔ یزید اگرچہ میدان جنگ میں موجود نہ تھا۔ اس نے امام حسین کا سر دیکھ کر ان کے قتل پر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ تاہم وہ اس جرم سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ کوئی صاحب اختیار اپنے گرد جو فضا بناتا ہے اسی کے مطابق اس کے ماتحت عمل کرتے ہیں۔
یزید کی ولی عہدی کا واقعہ بتاتا ہے کہ اخلاص اور نیک نیتی کے ساتھ بھی آدمی کتنی بڑی غلطی کر سکتا ہے۔ آدمی عام طور پر اپنی پسند ناپسند سے مغلوب (OBSESSED) رہتا ہے۔ اس کے قریبی حالات اس کا جو مزاج بنا دیتے ہیں، بس اسی کے تحت وہ سوچنے لگتا ہے۔ اس کی فکر ایک قسم کی متاثر فکر (CONDITIONED THINKING) بن جاتی ہے۔ وہ نیک نیت ہوکر بھی غلط فیصلے کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں مشورہ کو بے حد اہمیت دی گئی ہے۔ مشورہ کے ذریعہ ایک کی غلطی دوسرے پر واضح ہوتی رہتی ہے۔ اور جہاں تک اجتماعی امور کا تعلق ہے، اس کے لئے تو مشورہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا جمعہ کی نماز کے لئے جماعت ____________ معاویہ بلاشبہ نیک نیت تھے۔ تاہم ان کا فیصلہ متاثر ذہن سے نکلا ہوا فیصلہ تھا جس میں ان حقائق کی رعایت شامل نہ تھی جو ان کے اپنے ذہن کے باہر انتہائی عریاں شکل میں پائے جا رہے تھے۔
الامرا سرع من ذالک (فیصلہ کی گھڑی زیادہ قریب ہے)
کہا جاتا ہے کہ امیر معاویہ جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو انھوں نے یزید کو بلا کر کچھ نصیحتیں کیں۔ اس میں انھوں نے کہا: "بیٹے! میں نے تم کو پالان کنے اور سفر کرنے سے بے نیاز کر دیا ہے۔ دشواریوں کو آسان ، دشمنوں کو تابع اور عرب کی مغرور گردنوں کو مطیع بنا دیا ہے۔ میں نے تمھارے لئے وہ چیزیں فراہم کر دی ہیں جو اس سے پہلے کسی نے فراہم نہیں کیں۔ (محمد بن علی بن طباطباء، تاریخ الفخری)
آدمی پر جب کسی خیال کا غلبہ ہوتا ہے تو اکثر وہ حقائق اس سے اوجھل ہو جاتے ہیں جو اس کے خلاف جلبے ہوں۔ ایسا ہی امیر معاویہ کے ساتھ ہوا۔ وہ دو انتہائی سنگین حقیقتوں کو بھول گئے ایک یہ کہ اسلام میں علمبر کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues