یزید کی ولی عہدی
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۶
ة 5 ق ذ ق 80 روجو القرآن العراقی اول في قطر في العالم یہآں عنوان کی جگہ پر ہم ایک عربی اخبار کا تراشہ نقل کر رہے ہیں۔ یہ عراقی ہفتہ وار الریاضۃ والشباب (بغداد) سے لیا گیا ہے۔ عرب دنیا میں فن خطاطی ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوئی ہے۔ نئے نئے انداز کی خوبصورت تحریریں وجود میں آرہی ہیں ۔ اوپر کا تراشہ اسی کا ایک سادہ نمونہ ہے۔
اسلام آیا تو مکہ اور مدینہ میں مشکل ایک درجن آدمی لکھنا جانتے تھے۔ بدر کی لڑائی میں جو لوگ قید ہوئے ، ان میں سے کچھ کتابت کا فن جانتے تھے۔ ان کے فدیہ کے لئے یہ مقرر کیا گیا کہ وہ مدینہ کے دس مسلمان بچوں کو لکھنا سکھا دیں اس کے بعد وہ رہا کر دیے جائیں گے۔ اس طرح مدینہ میں لکھنے والوں کی کثرت ہو گئی۔ تاہم کتابت کا فن اس وقت بالکل ابتدائی حالت میں تھا۔ عباسی دور میں، دوسرے فنون کی طرح، اس کو کافی ترقی ہوئی۔ نئے نئے ڈیزائن پیدا کرنے کی کوشش میں خط مرصع ، خط نسخ اور خط ریاسی وجود میں آئے۔ خط ریاسی ۱۰ اپنے موجد ذوالریاستین فضل بن سہل کی طرف منسوب ہے۔ اس زمانہ میں خط کوفی کی میں سے زائد شکلیں بن گئی تھیں، تاہم یہ سارے خطوط ابتدائی صورت میں تھے ، عربی خط کو حسین بنانے کا کام سب سے پہلے ابوعلی محمد بن مقلہ (م ۳۲۸ ھ) نے کیا۔ اس کے بعد علی بن هلال (م ۴۱۳ ھ) آئے اور انھوں نے اس کی تہذیب و اتخذ من الرياضة أسلوباً للحياة تحسین میں مزید اضافے کئے ۔
عربی خط ارتقاء کے مراحل سے گزرتا رہا اور اس نے ایک مستقل آرٹ کی حیثیت اختیار کرلی۔ اب یہ خط اتنا دل آویز بن چکا تھا کہ بہت سی دوسری قو میں جب اسلام لائیں تو انھوں نے اپنی قومی زبانوں کے لئے اسی رسم خط کو پسند کر لیا۔ مثلاً ترکی، فارسی، افغانی ، سندھی، اردو اور افریقہ کی مختلف زبانیں۔
جمالیاتی ذوق انسان کا ایک فطری ذوق ہے۔
یہ ذوق مصوری ، مجسمہ سازی اور آرٹ کی دوسری صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے ، اسلام میں چونکہ آرٹ کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی ہے مسلمانوں کے جمالیاتی ذوق نے اپنے اظہار کی دوسری صورتیں تلاش کر لیں، مثلا تعمیرات ، چین بندی وغیرہ۔
انھیں صورتوں میں سے ایک فن کتابت بھی ہے۔ کتابت کے فن کا چونکہ بہت گہرا تعلق قرآن وحدیث سے بھی تھا، اس لئے اس فن کی طرف مسلمانوں کی توجہ بہت زیادہ ہوئی۔ مسلمانوں میں بہت بڑے بڑے خطاط پیدا ہوئے جنھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues