Al-Risala · February 1978 · page 34

یزید کی ولی عہدی

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۳۴

اس فن کو اعلیٰ ترین جمالیاتی معیار پر پہنچا دیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عربی خط کی تحسین کے لئے جتنی کوششیں مسلمانوں نے کیں، اتنی کسی بھی دوسرے رسم الخط کے لئے کسی قوم نے نہیں کیں۔ عربی خط آج دنیا کا حسین ترین خط سمجھا جاتا ہے۔ فنی اور تمدنی ترقیوں کا بہت گہرا تعلق اقتصادیات سے ہوتا ہے۔ چنانچہ فن کتابت کی ترقیاں بھی اسی وقت تک جاری رہیں جب تک اقتصادیات کے سرے مسلمانوں کے ہاتھ میں تھے۔ اٹھارویں صدی میں مغلوں اور ترکوں کے زوال اور جدید صنعتی نظام کے ظہور نے مسلمانوں کو اقتصادیات میں پیچھے کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دوسری سرگرمیوں کے ساتھ خط کی تحسین و ترقی کا کام بھی رک گیا۔

بیسویں صدی کے نصف آخر میں پیٹرول کی دولت کے ظہور نے، دوسری چیزوں کے ساتھ، فن کتابت کو بھی دوبارہ نئی ترقی کے مواقع دے دیے ہیں ، عرب ممالک میں ایسے خطاط پیدا ہورہے ہیں جنھوں نے عربی خط کو ایک نئی زندگی عطا کردی ہے۔ عراق کا مجلہ " آفاق عربیہ " فن کتابت کی ان جدید ترقیوں کی ایک مثال ہے۔

یہاں یہ اضافہ غیر متعلق نہ ہوگا کہ جن زبانوں نے عربی رسم الخط کو اپنایا ، وہ سب موجودہ زمانہ میں ، اپنے حسب حال ، اس کے ٹائپ کو بھی اختیار کر چکی ہیں۔ وہ عربی خط کے حسن کے ساتھ دور جدید کی مشینی خوبیوں کو جمع کرنے کے وقت کے ساتھ ترقی کررہی ہیں۔ اس میں صرف ایک استثنا ہے۔ اور وہ اسی زبان کا ہے جس کے وارثوں کا یہ خیال ہے کہ ان کی زبان اسی طرح تمام زبانوں میں افضل ہے جس طرح ان کا رسول تمام رسولوں میں ـــــ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ ہماری زبان اردو ہے جس کے معنی لشکر کے ہوتے ہیں۔ ملک خدا بخش مشہور مسلم قانون داں گزرے ہیں۔ وہ انگریزی ہندوستان میں ایڈوکیٹ جنرل تھے اور ۱۹۳۲ سے ۱۹۳۷ تک لیجسلیٹو کونسل میں حزبِ مخالف کے لیڈر رہے۔ انھوں نے برطانوی صحافی بیورلی نکلس سے ایک ملاقات کے دوران بڑی شدت کے ساتھ کہا تھا: " ہندو اردو زبان کو ہٹا کر ہندوستانی کو اس کی جگہ بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اردو بڑی سخت جان ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ لفظ " اردو " کیا معنی رکھتا ہے ؟ اس لفظ کے معنی ہیں لشکر ۔ گویا یہ ایک لشکر ہے جس پر ہندوستانی زبان کبھی فتح نہیں پا سکتی: " ورڈکٹ آن انڈیا ( ۱۹۴۴ )

اس قسم کا استدلال صرف ادبی استدلال ہوتا ہے اور ادبی استدلال ضروری نہیں کہ حقیقت واقعہ بھی ادبی استدلال کے ساتھ موافقت کرے۔

شعر و شاعری اور خطابت کے رواج نے ہماری ذہنی زندگی میں جو خرابیاں پیدا کیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خالص حقیقت پسندانہ اور سائنٹفک انداز فکر ہمارے یہاں پیدا نہ ہوسکا۔ کتنے عالی دماغ لوگ اس قسم کے دلائل کے بھروسہ پر صدیوں جیتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان کی خیالی دلیل خارجی حقیقت سے ٹکرائی تو معلوم ہوا کہ وہاں سرے سے کوئی دلیل ہی موجود نہ تھی ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page