THE MOUNTAIN, AT LAST, IS COMING TO MOHAMMED.
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۲۹
میں دے دیا اس کا نتیجہ وہ عظیم الشان انقلاب تھا جس کے اثرات آج تک زمین پر باقی ہیں۔ یہ موافق حالات کیا تھے اور اصحاب رسول نے کس طرح اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا، اس کی تفصیل اس سے پہلے سامنے آچکی ہے۔ یہاں ہم اس معاملے کے صرف ایک پہلو کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو انتہائی اہم ہے۔ اور اکثر حالات میں فیصلہ کن ثابت ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کوئی بے موقع جھگڑا (خاص طور پر سیاسی جھگڑا کھڑا کر کے ایسی نزاکت پیدا نہ کی جائے جس سے سارا بنا ہوا کھیل بگڑ جائے۔
اسلامی تاریخ میں 11 ھ اسی قسم کا ایک نازک لمحہ تھا پیغمبر کی وفات کے بعد خلیفہ کے انتخاب کا سوال ہوا تو انصار (اہل مدینہ) نے مطالبہ کیا کہ ان کے سردار (سعد بن عبادہ) کو خلیفہ بنایا جائے۔ انصار نے سارے عرب کی دشمنی مول لے کر اسلام کے لٹے ہوئے قافلہ کو پناہ دی تھی۔ اپنی اقتصادیات کو اسلام کی راہ میں برباد کیا تھا۔ اسلام کی خاطر ان کی عورتیں بیوہ اور ان کے بچے یتیم ہو گئے تھے۔ فطری طور پر وہ اپنا حق سمجھتے تھے کہ خلافت ان کے سپرد کی جائے ۔ جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کا دوسرا گروہ (مہاجرین) اس معاملے میں ان کا ساتھ نہیں دے رہا ہے تو انھوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ خلافت کو دونوں گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے ۔ ایک امیر مہاجرین میں سے ہو اور ایک امیر انصار میں سے۔ (منا امیر و منکم امیر)
یہ ایک نہایت نازک صورت حال تھی۔ یہ سیاسی اختلاف اگر باقی رہتا تو مہاجرین اور انصار کی تلواریں ایک دوسرے کے خلاف نکل پڑتیں اور اسلام کی تاریخ ہجرت کے گیارھویں سال ہی عرب کے ایک قصبہ (یثرب) میں ختم ہو جاتی۔ جب جھگڑا بڑھا تو ابو بکر صدیق ﷺ کھڑے ہوئے۔ آپ نے ایک تقریر کی جس میں مسئلہ کے نازک پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ عرب کے حالات میں قریش کی امارت کے سوا کوئی اور امارت قابل عمل نہیں ہے : ولن تعرف العرب هذا الامر الا لهذا الحي من قريش قبیلہ قریش کے سوا کسی اور کی امارت کو عرب کے لوگ تہذیب سیرة ابن ہشام : قاہره ۱۳۷۳، جزء ثانی ، صفحه ۱۵ نہیں جانتے ۔
اس عملی نزاکت کو تسلیم کرتے ہوئے انصار نے اپنے مطالبہ کو واپس لے لیا۔ وہ سیاسی عہدہ کو مہاجرین کے حوالے کر کے " محکومی “ پر راضی ہو گئے۔ اس کے بعد آخر تک خلافت کے معاملے کے لئے ان کی طرف سے کوئی شورش نہیں ہوئی۔ ان کے پورے گروہ میں صرف ایک شخص (سعد بن عبادہ) اس احساس کو اپنے دل سے نکال نہ سکے۔ حتی کہ انھوں نے خلیفہ اول کے ہاتھ پر بیعت نہ کی۔ مگر انھوں نے بھی احتجاج اور مطالبہ کی کوئی مہم نہیں چلائی۔ وہ اپنے اس احساس کو لئے ہوئے مدینہ سے شام چلے گئے اور وہیں خاموش زندگی گزار کر مر گئے۔
انصار کا یہ سیاسی ایثار واحد سب سے بڑا عامل ہے جس نے اسلام کو مقامی دائرہ سے نکال کر ایک عالمی واقعہ بنا دیا۔ خلافت کو اگر وہ " جمہوری " بنانے پر اصرار کرتے تو کبھی یہ کامیابی حاصل نہ ہوتی ۔ بیسویں صدی اسلام کی صدی تھی ، جس طرح ساتویں صدی اسلام کی صدی بنی۔ اللہ نے دوبارہ انتہائی اعلیٰ درجہ کے موافق حالات پیدا کر دیئے تھے۔ مگر پوری صدی مسلمانوں نے لا حاصل قسم کے سیاسی جھگڑوں میں
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues