Al-Risala · February 1978 · page 40

THE MOUNTAIN, AT LAST, IS COMING TO MOHAMMED.

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۰

گزار دی۔ کوئی گروہ حتیٰ کہ کوئی قابل ذکر مذہبی نہ اٹھا جو اللہ کے منصوبے میں اپنے کو شامل کرے ۔ اب ہم صدی کے آخر میں ہیں اور خدا بدستور تمام مواقع کو لئے ہوئے اپنے بندوں کے انتظار میں ہے جو اس کے پہیہ کے ساتھ اپنا پہیہ جوڑ دیں۔ اسی واقعہ کے ہونے یا نہ ہونے پر مستقبل کا انحصار ہے۔ اگر آج ایسا ہو گیا تو اکیسویں صدی انشاء اللہ اسلام کی صدی ہوگی ۔ اور اگر انسانوں میں ایسے لوگ نہ نکلیں تو عجب نہیں کہ خدا اس کے بعد انسان کے سوا کسی دوسری مخلوق کو اٹھائے اور اس کو حکم دے کہ وہ بول کر امر الہی کا اعلان کرے۔ مگر اس میں ہمارے لئے خوشی کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ کیونکہ انسان کا کام جب غیر انسان انجام دینے لگیں تو یہ خدا کی طرف سے انسان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ جب خدا کی آواز بلند کرنے کے لئے انسانوں کی زبانیں بند ہو جاتی ہیں، اس وقت دابتہ الرمل (۴۸) زمین سے نکل کر امرحق کا اعلان کرتا ہے۔ مگر جب دابتہ الارض کی زبان سے خدا اپنا اعلان کرانے لگے تو یہ خوشی کا نہیں غم کا وقت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد زمین و آسمان کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔ انسان سے زمین کا سبز و شاداب کره چھین لیا جاتا ہے اور اس کو دھوئیں اور آگ کی دنیا کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے، جہاں وہ ابدی طور پر "روتا اور دانت پیستا" رہے، ملوکیت کا خاتمہ دو سو سالہ صلیبی لڑائیوں (۱۰۹۶ - (1096-1271) میں ناکامی کے بعد مغرب کی مسیحی قوموں نے اسلامی دنیا کے خلاف روحانی جنگ (SPRITUAL CRUSADES) کا جو طریقہ نکالا ، اس نے انھیں نئی کامیابیوں سے ہم کنار کیا۔ مسلم اسپین میں علمی تحقیق کا جو کام ہو رہا تھا ، وہ دھیرے دھیرے یورپ منتقل ہو گیا ۔ اور بالآخر سائنسی اور صنعتی انقلاب کا سبب بنا۔ مغربی قوموں نے جدید علمی اور عملی قوتوں سے مسلح ہو کر سارے عالم اسلام پر قبضہ کر لیا۔ لیا۔ 1799 میں ایک طرف ترکوں کے بیڑے کا غرق ہونا اور دوسری طرف ٹیپو سلطان کی شہادت ، اس تبدیلی کا آخری نقطہ تھا جب کہ مغربی قوموں کا غلبہ اپنے کامل درجہ پر پہنچ گیا۔

تاہم اللہ تعالیٰ نے خود سائنسی انقلاب کے اندر ایسے عوامل پیدا کر دیئے جو مغربی قوموں کے خلاف کام کرنے لگے۔ اس کا سب سے پہلا مظاہرہ جدید استشراق کا وجود میں آنا ہے جو ٹامس کارلائل (۱۸۸۱ - ۱۷۹۵) سے شروع ہوا۔ سائنسی طرز فکر نے اس مقدس فریب (PIOUS FRAUD) کو بے معنی ثابت کر دیا جس نے حقائق کو بگاڑنے اور جھوٹے واقعات گھڑنے کو سند جواز عطا کر رکھا تھا۔ اس طرح سائنس کے ظہور نے وہ ذہنی زمین ہی ختم کر دی جس پر قدیم طرز کا استشراق وجود میں آتا تھا۔

پھر انھیں جدید علوم کے بطن سے نیشنلزم اور ڈیموکریسی جیسے نظریات برآمد ہوئے جنھوں نے نو آبادیاتی نظام کو فکری حیثیت سے بے بنیاد ثابت کر دیا۔ قومی اقتدار اور عوامی حکومت کے تصورات خود مغرب سے در آمد ہو کر ان مشرقی مقبوضات میں پہنچے اور آزادی کی تحریکوں کے لئے نظریاتی ہتھیار بن گئے ۔ اس کے بعد صنعتی نظام کی پیدا کردہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page