Al-Risala · February 1978 · page 42

THE MOUNTAIN, AT LAST, IS COMING TO MOHAMMED.

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۲

دوسرا اہم پہلو وہ ہے جس کو علمی اعتبار بیت (SCIENTIFIC CREDIBILITY) کہہ سکتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں جو علمی حقائق دریافت ہوئے ہیں، ان کو سامنے رکھ کر جب مذاہب کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو، اسلام کے سوا، ہر مذہب میں ان کے ساتھ اتنی عدم مطابقت پائی جاتی ہے کہ ان مذاہب کی علمی صداقت پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں مثال کے طور پر میں صرف ایک حوالہ نقل کروں گا۔

ایک امریکی سائنس داں والٹر اسکر لنڈ برگ (WALTER OSKAR LUNDBERG) نے اس پہلو کا جائزہ لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک سائنس داں، دوسروں کے مقابلہ میں، ایک خصوصی موقع (SPECIAL ADVANTAGE) اس بات کا رکھتا ہے کہ وہ خدا کی سچائی کو سمجھ سکے۔ وہ اساسی اصول جس پر اس کے کام کی بنیاد ہے، وہ دراصل خدا کے وجود کا ایک اظہار (AN EXPRESSION OF GOD'S EXISTANCE) ہے، اس کے باوجود سائنس کی تسلیم کے بعد کیوں لوگ خدا کے منکر ہو جاتے ہیں، امریکی پروفیسر کے نزدیک، دومیں سے ایک خاص سبب اس کا یہ ہے: IN ORGANIZED CHRISTIANITY, THERE IS INSTILLED DEEPLY IN YOUNG PEOPLE A CONCEPT OF GOD CREATED IN THE IMAGE OF MAN, RATHER THAN OF MAN CREATED IN THE IMAGE OF GOD. WHEN SUCH MINDS ARE LATER TRAINED IN SCIENCE, THIS REVERSED AND LIMITING ANTHROPOMORPHIC CONCEPT GRADUALLY BECOMES MORE AND MORE INCOMPATIBLE WITH THE RATIONAL, INDUCTIVE ATTITUDE OF SCIENCE, ULTIMATELY, WHEN ALL ATTEMPTS AT RECONCILIATION FAIL, THE CONCEPT OF GOD MAY BE ABANDONED ENTIRELY. The Evidence of God in an Expanding Universe Edited by John Clover Monsma, Pocket books Distributing Co., Bombay, 1 968, p. 56 ترجمہ: عیسائیت کے نظام میں نوجوان لوگوں میں نہایت گہرائی سے ایک ایسے خدا کا تصور بٹھایا گیا ہے جو انسان کی صورت میں ظاہر ہوا، بمقابلہ اس کے کہ ایسے انسان کا تصور بٹھایا جائے جو خدا کی صورت میں پیدا کیا گیا ہو۔ اس طرح کے ذہن بعد کو جب سائنس کی تعلیم حاصل کرتے ہیں تو یہ الٹا اور محدود انسانی تصور خدا تدریجی طور پر سائنس کے عقلی اور استقرائی نقطہ نظر سے زیادہ سے زیادہ غیر مطابق نظر آنے لگتا ہے۔ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ جب روایتی عقیدہ اور سائنس کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کی ساری کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو وہ خدا کا تصور بالکل ہی چھوڑ بیٹھتے ہیں۔

مگر اسلام کا معاملہ مکمل طور پر ایک مستثنی معاملہ ہے۔ اس کی تعلیمات تمام ثابت شدہ حقائق کے مطابق ہیں اور علمی جانچ میں پوری اترتی ہیں۔ حتیٰ کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جدید علم پورا کا پورا اسلام کا علم کلام ہے۔ یہ واقعہ علمی حیثیت سے، اسلام کا قابل اعتبار ہونا ثابت کرتا ہے۔ اگر اسلام کسی غیر معتبر ماخذ سے نکلا ہوا ہوتا، یا دوسرے قدیم مذہبوں کی طرح اس میں انسانی ملاوٹ شامل ہوگئی ہوتی تو نا ممکن تھا کہ وہ جدید حقائق کے مقابلہ میں ٹھہر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page