جدید مواقع
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۳
جدید مواقع
موجودہ زمانہ میں دو چیزیں بیک وقت وجود میں آئی ہیں۔ ایک ، اظہار رائے کی آزادی۔ دوسرے، ذرائع ابلاغ کی ترقی ۔ موجودہ زمانہ میں ایک طرف، کم ازکم غیر کمیونسٹ دنیا میں، اظہار رائے کے حق کو انسان کا بنیادی حق تسلیم کر لیا گیا ہے جس کو کسی طرح چھینا نہیں جاسکتا۔ ہندوستان میں ایمرجنسی کے زمانہ (جون ۱۹۷۰ء تا مارچ ۱۹۷۷ء) میں اظہار رائے کے حق کو سلب کر لیا گیا تھا۔ مگر اس کے خلاف اتنا ز بر دست طوفان اٹھا کہ پابندیاں عائد کرنے والی حکومت پہلے ہی ایکشن میں تنکے کی طرح بہہ گئی۔
اسی کے ساتھ دوسری چیز جو وجود میں آئی، وہ پریس ہے۔ پریس کی ترقی نے موجودہ زمانہ میں اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ کسی خیال کو نہایت تیزی سے انسانی آبادی میں پھیلایا جاسکے۔ حضرت مسیح دو ہزار برس پہلے فلسطین کی ایک بستی (ناصره) میں آئے ۔ وہ ایک عظیم انسان اور عظیم پیغمبر تھے۔ مگر ان کی آواز مقامی آبادی سے باہر مشکل کسی شخص تک پہنچ سکی۔ آج کوئی بھی شخص جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرکے بیک وقت اپنی آواز ساری دنیا میں پہنچا سکتا ہے۔
ان امکانات نے ہمارے لئے مواقع کار کا نیا میدان کھول دیا ہے۔ اگر حکمرانوں سے سیاسی رقابت پیدا کرنے کی غلطی نہ کی جائے تو آج بلا روک ٹوک اسلام کی دعوت واشاعت کا کام کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف جدید ذرائع نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ تمام دنیا کو بیک وقت اسلام کا مخاطب بنایا جا سکے اور خدا کی آواز خدا کی زمین کے گوشے گوشے میں اس طرح پہنچادی جائے کہ کوئی کان نہ رہے جس نے اس کو نہ سنا ہو۔ کوئی آنکھ نہ ہو جس نے اس کو دیکھا نہ ہو۔
فکری زمین
موجودہ زمانہ میں جو لوگ اسلام کے سیاسی انقلاب کا نعرہ لے کر اٹھے، نیت کے اعتبار سے خواہ وہ کتنے ہی مخلص ہوں، عملاً ان کی تحریک نے اصل معاملہ کو صرف بگاڑنے کا کام انجام دیا ہے۔ سیاسی انقلاب ہمیشہ فکری زمین پر پیدا ہوتا ہے۔ اسلام کے حق میں یہ فکری زمین ، کم ازکم امکانی طور پر، پوری طرح تیار ہو چکی تھی۔ اب ان کا کام یہ تھا کہ اپنے عمل کے ذریعہ ان فکری امکانات کو بروئے کار آنے کا موقع دیتے۔ مگر انھوں نے غیر ضروری قسم کے سیاسی جھگڑے چھیڑ کر اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ یہ کہنا بمشکل مبالغہ ہوگا کہ بیسویں صدی کی اسلامی سیاسی تحریکیں اگر وجود میں نہ آتی ہوتیں تو اسلام کے سیاسی امکانات آج کہیں زیادہ روشن ہوتے۔ اس معاملہ کو ہندوستان کی آزادی کی تحریک کی مثال سے سمجھئے ۔
قدیم دنیا میں سیاست و حکومت " شاہی محل " کا معاملہ سمجھا جاتا تھا۔ جو شخص بھی طاقت کے زور پر شاہی
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues