فکری زمین
الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۴
محل پر قابض ہو جائے، وہ ملک کا جائزہ حکمران بن جاتا تھا۔ یہ حالات تھے جس انگریز اس ملک میں داخل ہوئے۔ صنعتی انقلاب نے ان کی مدد کی۔ جس طرح ۴۵ ھ میں بابر نے اپنے توپ خانہ کے ذریعہ کامیابی حاصل کی تھی، انگریز نے 1857 میں مشینی طاقت سے مسلح ہو کر ہندوستان کے اقتدار پر اپنے قبضہ کو مکمل کر لیا۔ مگر جس سائنس نے انگریزوں کو مادی طاقت دی تھی، اسی سائنس کے بطن سے وہ سماجی اوپر سیاسی علوم پیدا ہوئے جنھوں نے قدیم فکری زمین کو بدلنا شروع کیا۔ ان علوم نے جمہوریت کا تصور پیدا کیا جس کے بعد شاہی حکمرانی ایک بے دلیل چیز بن کر رہ گئی۔ انھوں نے نیشنلزم کو ترقی دی جس نے کسی ملک کے لیے اس حق کا خاتمہ کر دیا کہ وہ دوسرے ملک کے اوپر حکومت کرے، اس طرح ہندوستان کے مغربی حکمران، خود اپنے ہی پیدا کردہ افکار کے نتیجہ میں، بیسویں صدی میں اس فضا سے محروم ہو گئے جس نے اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ان کو اپنے نو آباد یاتی نظام کے لیے موافق فکری زمین فراہم کی تھی ۔
تاہم موجودہ صدی کے نصف اول میں ہندوستان میں جو لوگ سیاسی آزادی کا نعرہ لے کر اٹھے، وہ اس فکری زمین کو اپنے حق میں استعمال کرنے میں ناکام رہے۔ ایک طرف سبھاش چندر بوس (۱۹۴۵ء) اور دوسری طرف محمود حسن دیو بندی (۱۹۳۰ء - ۱۸۵۱ء) جیسے ہزاروں لوگوں نے اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔ مگر ہندوستان کو آزاد بنانے کے لئے ان کی کوششیں مکمل طور پر ناکام رہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ انگریز کو اسلحہ کے میدان میں چیلنج کر رہے تھے۔ اور اسلحہ کا میدان وہ تھا جہاں ان کا حریف اب بھی ان کے اور فیصلہ کن حد تک فوقیت رکھتا تھا۔ مہاتما گاندھی (۱۹۳۸ء - ۱۸۶۹ء) پہلے شخص ہیں جنھوں نے حالات کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا اور اس راز کو سمجھا کہ حصول آزادی کے لئے ہمارا طریق عمل بالکل الٹا نتیجہ پیدا کر رہا ہے۔ ان کے مغربیات کے مطالعہ نے انھیں بتایا کہ دنیا کی سیاسی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ انگریز میں اس فکری زمین سے محروم ہو چکا ہے جو اب تک اس کو ہندوستان میں حکمرانی کا حق دیے ہوئے تھا۔ تاہم ہمارا متشددانہ طریق کار اس کو بروئے کار لانے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ مسلح تصادم کے ذریعہ پیدا شدہ غیر ضروری مسائل کو ختم کر دیا جائے تو اس کے بعد خود بخود جمہوریت اور نیشنلزم کے فکری عوامل ابھر آئیں گے اور انگریز کو سیاسی طور پر بے جگہ بنا دیں گے۔
مہاتما گاندھی ۱۹۱۹ء میں بال گنگادھر تلک کو شکست دے کر آل انڈیا کانگریس کے لیڈر بن گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اعلان کیا کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک ہنسا( تشدد) کے بجائے آہنسا (عدم تشدد) کی بنیاد پر چلائی جائے گی۔ یہ اعلان انگریز کے لئے پچھلی دہشت پسند تحریکوں سے زیادہ سخت ثابت ہوا۔ تشدد کو تشدد کے ذریعہ ختم کرنے کا ان کے پاس کافی وجہ جواز تھا۔ مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ عدم تشدد کے اصول پر اٹھنے والے طوفان کا مقابلہ کس طرح کریں۔ کہا جاتا ہے کہ جب یہ صورت حال سامنے آئی تو ایک انگریز کلکٹر نے سکرٹریٹ کو تار دیا :
KINDLY WIRE INSTRUCTIONS HOW TO KILL A TIGER NON-VIOLENTLY.
‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues