Al-Risala · February 1978 · page 45

الٹی سمت میں

الرسالہ، فروری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۵

برائے مہربانی بذریعہ تار ہدایات دیجیے کہ ایک شیر کو تشدد کے بغیر کس طرح ہلاک کیا جائے ۔ تشدد اور مار دھاڑ کا ماحول ختم ہوتے ہی فکری عوامل اپنا کام کرنے لگے۔ نیشنلزم اور جمہوریت کے عصری نظریات نے انگریز کو اس کی سیاسی زمین سے بے دخل کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ انگریز کو اس ملک سے رخصت ہونے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ تشدد کے محاذ پر ہاری ہوئی میںگ ، عدم تشدد کے محاذ پر جیت گئی ۔ ایسی ہی کچھ صورت حال آج اسلام کے ساتھ پیش آرہی ہے۔ اسلام کے اختیار کیئے گئے نہر ملک جن سیاسی جنگ لڑی جارہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہر ملک میں اسلام سیاسی حکمرانوں کا حریف بنا ہوا ہے۔ اسلام اور حکمرانوں کے تصادم کی وجہ سے وہ موافق امکانات بروئے کار نہیں آرہے ہیں جو زمانہ کی گردش سے اسلام کے حصے پید اہوتے ہیں۔ اسلام کو اگر سیاسی حریف کے مقام سے ہٹا دیا جائے تو اچانک تمام مصنوعی رکاوٹیں دور ہو جائیں گی مسلمانو ں کی قوتیں مثبت پہلوؤں سے اسلام کی خدمت کرنے میں لگ جائیں گی، عصری امکانات اسلام کے حق میں موافق فضا بنانا شروع کر دیں گے اور پھر بہت جلد لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ میدان مقابلہ سے واپسی ہی میں پہلے بھی فتح مبین “ تھی اور آج بھی اسی میں فتح مبین کا راز چھپا ہوا ہے۔

الٹی سمت میں

ایک لطیفہ ہے کہ دہلی میں ایک مسافر کناٹ پلیس کی سڑک پر چل رہا تھا۔ اس کو پارلیمنٹ ہاؤس جانا تھا۔ مگر اس کا رخ الٹی طرف تھا۔ اس نے راستہ میں ایک شخص سے پوچھا، ” پارلیمنٹ ہاؤس یہاں سے کتنی دور ہوگا “ جواب دینے والے نے کہا ” تقریباً ۲۵ ہزار میل مسافر یہ سن کر گھبرا گیا۔ ” جناب میں آپ سے راستہ پوچھ رہا ہو اور آپ مجھ سے مذاق کر رہے ہیں “ اس نے کہا: معاف کیجیئے گا۔ میں نے مذاق نہیں کیا۔ اصل میں آپ پارلیمنٹ ہاؤس کے الٹی طرف چل رہے ہیں۔ اس لئے اگر آپ یوں ہی چلتے رہے تو زمین کا پو ما چکر کرنے کے بعد ہی آپ اپنی منزل پر پہنچ سکیں گے جس کی گولائی ۲۵ ہزار میل ہے“ یہ بات بھی اس وقت ہے جب کہ آپ عرض البلد کے ٹھیک اس خط پر چل رہے ہوں جس پر پارلیمنٹ ہاؤس واقع ہے ۔ اگر آپ کچھ دائیں بائیں ہو گئے تو زمین کا بار بار چکر کرنے کے بعد بھی آپ اپنی منزل کو پانے سے محروم رہیں گے ۔

پارلیمنٹ ہاؤس کا کوئی مسافر اس قسم کی غلطی نہیں کرے گا۔ کیونکہ لوگ اپنے دنیوی معاملات میں اتنے نادان نہیں ہوتے کہ اپنی غلطی واضح ہونے کے بعد بھی بدستور الٹی راہ پر چلتے رہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ آخرت کے شدید معاملہ میں بیشتر لوگ اسی غلطی میں مبتلا ہیں۔ واضح کرنے والے ان کی غلطیاں واضح کرتے ہیں ۔ ان کا دل بھی گواہی دیتا ہے کہ میں غلطی پر ہوں۔ مگر شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ اس کو عزت کا سوال بنا لیتے ہیں ۔ ” اگر میں نے اس کے کہنے سے اپنی غلطی مان لی تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا “ یہ احساس ان کے لئے رکاوٹ بن جاتا ہے ۔ وہ بدستور غلط راستہ پر چلتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ تباہی کے گڑھے میں جا گرتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1978 All issues

Printed page